ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ شدت اختیار کرنے والی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کی کرنسیوں پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے۔
اگرچہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عمان اور اردن کی کرنسیاں اس وقت مستحکم ہیں اگر جنگ طویل ہوتی ہے یا خطے میں تیل کی تنصیبات اور سمندری تجارتی راستے متاثر ہوتے ہیں تو خلیجی معیشتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات مستقبل میں کرنسی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لاکھوں شہری سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عمان اور اردن میں ملازمت کرتے ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر کے مساوی ترسیلاتِ زر وطن بھیجتے ہیں اس لیے ان ممالک کی کرنسیوں میں معمولی تبدیلی بھی پاکستانیوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
پاکستانی اوپن مارکیٹ میں اس وقت سعودی ریال تقریباً 75 روپے، متحدہ عرب امارات کا درہم 77 روپے، قطری ریال 76 سے 77 روپے، کویتی دینار 900 روپے، بحرینی دینار 745 سے 750 روپے، عمانی ریال 730 روپے جبکہ اردنی دینار 395 سے 400 روپے کے درمیان ٹریڈ کر رہا ہے۔ ان نرخوں میں روزانہ معمولی ردوبدل ممکن ہوتا ہے۔
سعودی ریال اماراتی درہم، قطری ریال، بحرینی دینار اور عمانی ریال امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک (Pegged) ہیں اس لیے ان کی قدر میں اچانک بڑی کمی یا اضافہ عموماً دیکھنے میں نہیں آتا۔ کویتی دینار ایک کرنسی باسکٹ سے منسلک ہے اس لیے اس میں نسبتاً محدود اتار چڑھاؤ ممکن ہوتا ہے جبکہ اردنی دینار بھی مضبوط اور نسبتاً مستحکم کرنسیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اگر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے حوثی حملوں میں اضافہ ہوتا ہے یا آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے متاثر ہوتے ہیں تو فوری طور پر ان کرنسیوں کی سرکاری قدر میں نمایاں تبدیلی کا امکان کم ہے لیکن خلیجی معیشتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ سکتی ہے تعمیراتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں نئی ملازمتوں کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی آ سکتی ہے۔
ایسی صورت حال میں امریکی ڈالر کی عالمی طلب مزید بڑھ سکتی ہے جبکہ خلیجی ممالک کے مرکزی بینک اپنی کرنسیوں کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مالیاتی اقدامات کر سکتے ہیں۔ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو خلیجی حکومتوں کے اخراجات، مالیاتی پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان موجود ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے اہم پہلو ترسیلاتِ زر ہیں۔ اگرچہ خلیجی کرنسیاں اپنی موجودہ سطح پر مستحکم رہ سکتی ہیں لیکن اگر پاکستانی روپیہ مزید کمزور ہوتا ہے تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقم کی پاکستانی روپے میں مالیت بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر خلیجی ممالک کی معیشتیں سست روی کا شکار ہوئیں تو وہاں ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کی آمدنی نئی بھرتیوں اور روزگار کے مواقع پر بھی اثر پڑ سکتا ہے