خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور سرکاری سکولوں کی بہتری کے دعووں کے باوجود ضلع خیبر کے علاقے لوئے شلمان، شین پوخ، ملک امروز کلی میں قائم گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس نے سکول کی خستہ حالی کو نمایاں کر دیا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکول کی عمارت انتہائی بوسیدہ حالت میں ہے۔ کئی دیواروں میں دراڑیں اور ٹوٹ پھوٹ نمایاں ہے جبکہ بعض دروازے بھی ٹوٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سکول میں بجلی کی سہولت موجود نہیں اور عمارت میں بجلی کی وائرنگ یا کنکشن بھی نظر نہیں آتا۔ اسی طرح پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی موجود نہیں جس کے باعث طالبات کو روزانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق یہ علاقے کا واحد گرلز پرائمری سکول ہے جہاں سینکڑوں طالبات زیر تعلیم ہیں مگر ان کی تعلیم کے لیے صرف ایک خاتون ٹیچر تعینات ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک استاد کے لیے تمام جماعتوں کو پڑھانا ممکن نہیں، جس سے طالبات کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ حکومت بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے لیکن دور افتادہ علاقوں کے سرکاری سکول آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق اگر صورتحال یہی رہی تو والدین بچیوں کو سکول بھیجنے سے بھی ہچکچائیں گے۔
مقامی افراد نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول ملک امروز کلی کو فوری طور پر مڈل سکول کا درجہ دیا جائے نئی عمارت تعمیر یا موجودہ عمارت کی مرمت کرائی جائے بجلی صاف پانی فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ طالبات کی تعداد کے مطابق مزید خواتین اساتذہ تعینات کی جائیں۔