ویب ڈیسک۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی پولیس کے کاؤنٹر انٹیلیجنس کشمیر (CIK) یونٹ نے پہلگام حملے میں ملوث افراد کی تلاش کے لیے چار اضلاع میں 10 مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔
چھاپے ضلع پلوامہ میں 1، گاندربل میں 6، سرینگر میں 1 اور بڈگام میں 2 مقامات پر مارے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد اُن حملہ آوروں کو تلاش کرنا ہے جنہوں نے پہلگام میں 88 روز قبل حملہ کیا تھا۔
تاہم بھارتی سیکیورٹی فورسز ابھی تک نہ حملہ آوروں کی شناخت کر سکیں، نہ ان کا کوئی سراغ لگا سکیں، اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا جا سکا ہے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق حالیہ چھاپے اس بات کی واضح نشانی ہیں کہ بھارتی حکام پہلگام حملے کی تحقیقات میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ جس حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ سیکیورٹی زدہ علاقے پر آہنی گرفت رکھتی ہے لیکن حقیقت میں وہ تین ماہ گزرنے کے بعد بھی چند حملہ آوروں کو تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ریسرچ کے مطابق یہ ناکامی صرف سیکیورٹی اداروں کی عملی کمزوری نہیں بلکہ مودی حکومت کے اس بیانیے کی بھی کھلی نفی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کو مکمل کنٹرول میں بتایا جاتا ہے۔
بھارت کی جانب سے بھاری فوجی موجودگی، سخت نگرانی، بار بار کرفیو اور دیگر جابرانہ اقدامات کے باوجود حملہ آور آرام سے حملہ کرنے کے بعد غائب ہو گئے اور تین ماہ بعد بھی ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ جبر اور طاقت سے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ مقامی آبادی اور قابض بھارتی فورسز کے درمیان بداعتمادی اتنی گہری ہو چکی ہے کہ زمین پر حقائق، بھارتی بیانیے سے بالکل مختلف ہیں۔
آزاد ریسرچ کےمطابق پہلگام حملے کے بعد کی صورتِ حال نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر دعویٰ صرف پروپیگنڈے تک محدود ہے، جبکہ زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ کمزور اور غیر یقینی ہے۔
88 دن گزرنے کے باوجود حملہ آوروں کا گرفتار نہ ہونا بھارت کے سیکیورٹی اداروں، انٹیلیجنس سسٹم اور حکومتی دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ واقعہ مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کی ناکامی اور زمینی حقائق سے اس کی لا تعلقی کا ثبوت ہے۔