ایک صدی سے زیادہ وقفے کے بعد کرکٹ دوبارہ اولمپک کھیلوں کا حصہ بننے جا رہا ہے اور اب 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں شرکت کرنے والی ٹیموں کے انتخاب کا فارمولا سامنے آ گیا ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنی حالیہ بورڈ میٹنگ میں اس حوالے سے تفصیلی مشاورت کے بعد ابتدائی تجاویز پیش کر دی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے مردوں اور خواتین کے الگ الگ مقابلوں میں 6، 6 ٹیموں کی شرکت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم مجوزہ فارمولے کے مطابق اولمپکس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کی کوئی گارنٹی نہیں دی گئی ہے۔
ابتدائی طور پر تجویز دی گئی تھی کہ ٹی20 رینکنگ میں ٹاپ 6 ٹیمیں براہِ راست اولمپکس کے لیے کوالیفائی کریں گی، لیکن اب نئے فارمولے میں تبدیلی کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر براعظم سے ایک ٹاپ ٹیم کوالیفائی کرے گی، جبکہ چھٹی ٹیم کا انتخاب گلوبل کوالیفائر کے ذریعے کیا جائے گا۔
آئی سی سی کے ایک رکن کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اولمپکس 2028 میں کرکٹ کی 5 ٹاپ ٹیمیں مختلف براعظموں سے آئیں گی اور چھٹی ٹیم کا فیصلہ عالمی کوالیفائر کے ذریعے کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، یہ نیا طریقہ کار کرکٹ کے عالمی فروغ اور مختلف خطوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ آئی سی سی ٹی20 رینکنگ کے لحاظ سے ایشیا سے بھارت، اوشیانا سے آسٹریلیا، یورپ سے انگلینڈ، افریقا سے جنوبی افریقا کوالیفائی کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ امریکا بطور میزبان ٹیم براہِ راست شرکت کا اہل ہوگا، تاہم اگر وہ نا اہل ہوا تو ویسٹ انڈیز کو کوالیفائی کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی جلد اس حوالے سے باضابطہ اعلان کرے گی، جس میں کوالیفائنگ ایونٹس اور فارمیٹ کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔ امکان ہے کہ گلوبل کوالیفائر آئندہ 2 برسوں میں منعقد کیا جائے گا، جس میں مختلف براعظموں کی نان ٹاپ ٹیمیں حصہ لیں گی۔
واضح رہے کہ کرکٹ پہلی اور آخری بار 1900 کے پیرس اولمپکس میں کھیلا گیا تھا، جہاں صرف 2 ٹیمیں، برطانیہ اور فرانس شریک ہوئیں۔ اب تقریباً 128 سال بعد کرکٹ کی اولمپکس میں واپسی ہورہی ہے، جسے کھیل کے عالمی فروغ کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
آئی سی سی اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے درمیان اس منصوبے پر کئی ماہ سے بات چیت جاری تھی، جس کے بعد بالآخر لاس اینجلس اولمپکس 2028 میں کرکٹ کی شمولیت کو حتمی منظوری دی گئی۔
کرکٹ شائقین اور ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ کھیل کے عالمی منظرنامے پر انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے، کیونکہ اولمپکس میں شرکت سے نہ صرف کرکٹ کی عالمی مقبولیت میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر روایتی ممالک میں بھی اس کھیل کی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔