پاکستان کی باصلاحیت باکسر فاطمہ زہرا نے کامن ویلتھ گیمز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ اپنے نام کر لیا۔
اس کامیابی کے ساتھ وہ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں باکسنگ کے مقابلوں میں تمغہ جیتنے والی پاکستان کی پہلی خاتون باکسر بن گئی ہیں، جبکہ 2014 کے بعد پاکستان نے بھی باکسنگ کے ایونٹ میں دوبارہ میڈل حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
سیمی فائنل میں کینیڈین حریف کا سامنا
گلاسگو میں جاری کامن ویلتھ گیمز کے ویمنز 60 کلوگرام کیٹیگری کے سیمی فائنل میں فاطمہ زہرا کا مقابلہ کینیڈا کی باکسر سے ہوا۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا تاہم کینیڈین باکسر نے ابتدا ہی سے برتری حاصل کیے رکھی۔
پہلے راؤنڈ میں حریف کو برتری
مقابلے کے پہلے راؤنڈ کے اختتام پر ججز نے کینیڈین باکسر کو ایک کے مقابلے میں چار پوائنٹس کی برتری دی۔ فاطمہ زہرا نے واپسی کی کوشش کی تاہم دوسرے راؤنڈ کے دوران ریفری نے مقابلہ روک دیا جس کے نتیجے میں پاکستانی باکسر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
سیمی فائنل میں شکست کے باوجود فاطمہ زہرا نے ایونٹ میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ باکسنگ کے مقابلوں میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو کانسی کا تمغہ دیا جاتا ہے اس طرح پاکستان کے نام ایک اور بین الاقوامی اعزاز درج ہو گیا۔
پاکستانی خواتین باکسنگ کی نئی تاریخ
فاطمہ زہرا کی یہ کامیابی کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ کامن ویلتھ گیمز کے باکسنگ ایونٹ میں تمغہ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئی ہیں۔ اس کامیابی کو پاکستان میں خواتین کے کھیلوں، خصوصاً باکسنگ، کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
12 برس بعد باکسنگ میں پاکستان کو میڈل
پاکستان نے آخری مرتبہ 2014 کے کامن ویلتھ گیمز میں باکسنگ کے مقابلوں میں تمغہ جیتا تھا۔ اس کے بعد بارہ برس تک پاکستانی باکسرز اس ایونٹ میں پوڈیم تک رسائی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ فاطمہ زہرا نے کانسی کا تمغہ جیت کر اس طویل انتظار کا خاتمہ کر دیا۔
کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی باکسر کو شکست دی تھی
فاطمہ زہرا نے سیمی فائنل تک رسائی ویمنز 60 کلوگرام کیٹیگری کے کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی جارڈن ولسن کو شکست دے کر حاصل کی تھی۔ اس کامیابی نے انہیں تمغے کی دوڑ میں شامل کیا جبکہ سیمی فائنل تک پہنچنے کے ساتھ ہی ان کے لیے کانسی کا تمغہ یقینی ہو گیا۔
پاکستان کے لیے حوصلہ افزا کامیابی
فاطمہ زہرا کی تاریخی کامیابی کو پاکستان میں خواتین کی کھیلوں میں بڑھتی ہوئی نمائندگی اور صلاحیتوں کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ کھیلوں کے حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی نہ صرف نوجوان خواتین کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگی بلکہ پاکستان میں باکسنگ کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔