ملک کے مختلف شہروں میں مرغی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پشاور میں صرف 2 روز کے دوران زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں 35 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد مرغی کا گوشت 600 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ قیمتوں میں اس تیز اضافے سے عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پشاور کی مختلف منڈیوں اور پرچون بازاروں میں زندہ مرغی کی فی کلو قیمت 350 سے بڑھ کر 385 روپے ہو گئی ہے، جبکہ مرغی کے گوشت کی قیمت بھی 600 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ فارمز سے مرغیوں کی ترسیل میں کمی اور فیڈ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
دوسری جانب لاہور میں بھی مرغی کے نرخ بڑھنے لگے ہیں۔ زندہ برائلر 350 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ گوشت کی قیمت 540 سے 560 روپے فی کلو کے درمیان فروخت ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چند دن پہلے تک مرغی کے نرخ نسبتاً مستحکم تھے، مگر اب روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔
پولٹری تاجروں کے مطابق، فیڈ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، بجلی اور ایندھن کے بڑھتے نرخ اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافے نے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کا اثر براہِ راست صارفین پر پڑ رہا ہے۔ کچھ تاجروں نے دعویٰ کیا کہ موسم کی تبدیلی کے باعث مرغیوں کی افزائش متاثر ہوئی ہے جس سے مارکیٹ میں سپلائی کم ہو گئی ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرے اور پولٹری مارکیٹ میں منافع خور مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ عام عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ ہفتوں میں گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے عام گھرانوں کے بجٹ پر مزید دباؤ بڑھ جائے گا۔