پاکستان کو کامن ویلتھ گیمز میں بڑا جھٹکا، ارشد ندیم فائنل میں ناکام

پاکستان کو کامن ویلتھ گیمز میں بڑا جھٹکا، ارشد ندیم فائنل میں ناکام

کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے اسٹار جیولن تھرو ایتھلیٹ اور دفاعی چیمپئن ارشد ندیم مردوں کے جیولن تھرو کے فائنل میں میڈل حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

طلائی تمغے کا دفاع کرنے کے لیے میدان میں اترنے والے ارشد ندیم اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکے اور مقابلے کے اختتام پر نویں پوزیشن پر رہے۔

گلاسگو میں جاری کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو کے فائنل میں مجموعی طور پر 12 ایتھلیٹس نے حصہ لیا۔ شائقین کی نظریں ارشد ندیم پر مرکوز تھیں، جنہوں نے گزشتہ ایڈیشن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ اپنے نام کیا تھا تاہم اس بار وہ اپنی سابقہ کارکردگی دہرانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

 یہ بھی پڑھیں :کامن ویلتھ گیمز جیولین تھرو مقابلے، ارشد ندیم نے فائنل میں جگہ بنالی

مقابلے کے دوران ارشد ندیم کی دوسری تھرو 77 اعشاریہ 41 میٹر جبکہ تیسری تھرو 75 اعشاریہ 39 میٹر رہی۔ یہ فاصلہ انہیں میڈل کی دوڑ میں شامل رکھنے کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکا اور وہ مجموعی طور پر نویں نمبر پر رہے۔

مردوں کے جیولن تھرو کے مقابلے میں سری لنکا کے رومیش تھارانگا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی چار تھروز کے بعد پہلی پوزیشن سنبھال لی۔ ان کی بہترین تھرو 89 اعشاریہ 75 میٹر رہی، جس نے انہیں دیگر تمام حریفوں پر واضح برتری دلائی۔

بھارت کے اولمپک چیمپئن نیرج چوپڑا بھی عمدہ فارم میں دکھائی دیے اور 85 اعشاریہ 83 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ ان کی کارکردگی نے مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا جبکہ دیگر ایتھلیٹس بھی تمغوں کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کرتے رہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ: پاک بھارت بڑا ٹاکرا، ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا آج مد مقابل، پلڑا کس کا بھاری؟

ارشد ندیم نے فائنل میں جگہ کوالیفائنگ راؤنڈ میں حاصل کی تھی جہاں انہوں نے 78 اعشاریہ 63 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ ساتویں پوزیشن حاصل کرتے ہوئے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ شائقین کو امید تھی کہ وہ فیصلہ کن مرحلے میں اپنی کارکردگی بہتر بنائیں گے، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

پاکستانی ایتھلیٹ کی میڈل ریس سے باہر ہونے کے بعد کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی ایتھلیٹکس ٹیم کی امیدوں کو دھچکا پہنچا ہے۔ ارشد ندیم گزشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر پاکستان کے سب سے کامیاب ایتھلیٹس میں شمار ہوتے رہے ہیں اور انہوں نے مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کے لیے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم اس مرتبہ وہ اپنے اعزاز کا دفاع کرنے اور پوڈیم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ شائقین اب مستقبل کے بین الاقوامی مقابلوں میں ان کی بہتر واپسی کے منتظر ہیں۔

editor

Related Articles