بنگلہ دیش کے تجربہ کار وکٹ کیپر بیٹر مشفیق الرحیم نے اپنے کیرئیر کے 100 ویں ٹیسٹ میچ میں شاندار سنچری اسکور کرکے نہ صرف تاریخ رقم کردی بلکہ بنگلہ دیشی کرکٹ کے سنہری صفحات میں اپنا نام مزید روشن کردیا۔ وہ 100 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ملک کے پہلے کرکٹر بن گئے ہیں، جو ان کی طویل اور مستقل کارکردگی کا ثبوت ہے۔
میر پور ڈھاکا میں آئرلینڈ کے خلاف جاری دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز مشفیق الرحیم نے انتہائی ذمہ داری اور عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی 13 ویں ٹیسٹ سینچری مکمل کی۔ ان کی یہ اننگز مشکل حالات میں ٹیم کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ ان کے تجربے اور اعتماد کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔
مشفیق الرحیم اس کارنامے کے ساتھ دنیا کے ان چند کرکٹرز کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے اپنے 100 ویں ٹیسٹ میں سینچری اسکور کی۔ وہ اس اعزاز کے ساتھ دنیا کے 11 ویں کرکٹر بن گئے ہیں۔ اس سے قبل اس فہرست میں آسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت اور دیگر کرکٹ ممالک کے بڑے نام شامل رہے ہیں۔
بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ، سابق کھلاڑیوں اور شائقین نے مشفیق الرحیم کی اس کامیابی کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے اسے بنگلہ دیش کی کرکٹ تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی اس تاریخی سینچری کے چرچے جاری ہیں، جبکہ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشفیق الرحیم کی مستقل مزاجی، پیشہ ورانہ انداز اور ٹیم کے لیے خدمات انہیں ملک کے عظیم ترین بیٹسمینوں میں شامل کرتی ہیں۔
مشفیق الرحیم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 100 ٹیسٹ کھیلنا اور اس خاص میچ میں سینچری بنانا ان کے کیرئیر کا ناقابلِ فراموش لمحہ ہے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کو کوچز، ساتھی کھلاڑیوں اور عوام کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیا۔
بنگلہ دیش کی ٹیم انتظامیہ کو بھی امید ہے کہ مشفیق الرحیم کی یہ یادگار اننگز ٹیم کے لیے نہ صرف حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی بلکہ آنے والے کھلاڑیوں کیلئے مثال بھی ثابت ہوگی۔