صوبہ پنجاب میں لاہور کی مقامی عدالت میں سابق وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف دائر 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کیس کی سماعت کے دوران آج ایک اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بطور گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔
سیشن جج لاہور یلماز غنی نے گزشتہ سماعت پر ملک احمد خان کو طلب کیا تھا۔ عدالت میں پیش ہو کر انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 2017 میں عمران خان نے شہباز شریف پر رشوت لینے کے سنگین اور بے بنیاد الزامات لگائے تھے، جو متعدد ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے۔ ان کے مطابق یہ الزامات ایک باقاعدہ گمراہ کن مہم کا حصہ محسوس ہوتے تھے۔
ملک احمد خان نے مزید کہا کہ ان کی شہباز شریف کے ساتھ جماعتی وابستگی ہے اور وہ بطور وزیراعلیٰ اور وزیراعظم عوامی خدمت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسلام میں جھوٹ اور غیبت کی سخت ممانعت ہے، کسی پر جھوٹا بہتان لگانا مذہبی طور پر بھی جائز نہیں۔ مدعی نے اس بنیاد پر کیس دائر کیا ہے اور اسے اس عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے‘۔
عدالت میں جرح کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل احمد حسین چوٹیاں نے مختلف سوالات اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ آیا جن ٹی وی پروگرامز کا ذکر گواہ نے کیا وہ سب پنجاب سے نشر ہوئے تھے؟ اسپیکر نے جواب دیا کہ یہ قومی سطح کے پروگرام تھے اور ضروری نہیں کہ تمام پنجاب سے آن ایئر ہوئے ہوں۔
وکیل نے پانامہ کیس سے متعلق بھی سوالات کیے۔ ملک احمد خان نے کہا کہ پانامہ پیپرز کا معاملہ بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے حامل افراد کی فہرست سے متعلق تھا۔
تاہم ملک احمد خان نے اس بات سے لاعلمی ظاہر کی کہ عمران خان نے اس ضمن میں سپریم کورٹ میں کوئی مخصوص درخواست دائر کی تھی۔ جرح کے دوران انہوں نے نواز شریف کی پانامہ کیس میں سزا کی تصدیق بھی کی، تاہم اس تاثر کو مسترد کیا کہ شہباز شریف نے محض اس عدالتی پس منظر کی وجہ سے جھوٹا دعویٰ دائر کیا۔
جرح مکمل ہونے کے بعد عدالت نے شہباز شریف کے مزید گواہوں کو اگلی سماعت پر طلب کرتے ہوئے کیس کی کارروائی 13 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
عدالت سے باہر میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’ذہنی کوفت‘ کے ساتھ پیشی پر آئے کیونکہ یہ کیس 7 برس سے زیرِ سماعت ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ کے اختیارات پر بھی کھل کر بات کی اور کہا کہ ’آئین لکھنے کا حق صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے، سپریم کورٹ کے پاس نہیں۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ بھی کہتی ہے کہ پارلیمنٹ کو مؤثر بنایا جائے‘۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں کسی خصوصی سلوک کا حق نہیں ہے۔ ’شہباز شریف کو بھی اسی جیل مینوئل کے مطابق رکھا گیا تھا، حتیٰ کہ گھر کا کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا‘۔
انہوں نے کہا کہ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی اور کو خصوصی رعایت دی جائے؟ ’انہوں نے مزید کہا کہ اگر 9 مئی جیسے اعمال کسی اور جماعت کی طرف سے ہوتے تو ان پر فوری پابندی عائد کر دی جاتی، جبکہ ماضی میں پانامہ کیس کے فیصلوں کے ذریعے وزرائے اعظم کو گھر بھیجا جاتا رہا ہے‘۔