وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت کرتے ہوئے نئے رولز نافذ کردیئے۔ کابینہ ڈویژن نے توشہ خانہ منیجمنٹ اینڈ ریگولیشن رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم اور صدر کے علاوہ دیگر افراد کی جانب سے تحائف وصول کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی، جبکہ توشہ خانہ میں موجود اور آئندہ موصول ہونے والے تمام تحائف کی نیلامی کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تحائف کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ ہر مالی سال توشہ خانہ میں موصول ہونے والے تمام تحائف کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی ہوگا، جبکہ تحائف کی کھلی عوامی نیلامی کی جائے گی۔
ثقافتی، تاریخی اور سفارتی طور پر حساس تحائف نیلام نہیں کیے جائیں گے۔ نیلامی سال میں 2 بار ترجیحاً کی جائے گی، تاہم کم از کم ایک بار نیلامی لازمی ہوگی۔ نئے قواعد کے تحت سرکاری عہدیداران اور ان کے خاندان کے افراد توشہ خانہ کے تحائف کی نیلامی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
اگر تحائف کسی سیٹ کی شکل میں ہوں تو انہیں الگ الگ فروخت نہیں کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نیلامی کی براہ راست میڈیا کوریج بھی ہوگی۔
توشہ خانہ کے تحائف سے متعلق فیصلوں کے لیے سیکریٹری کابینہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی میں خزانہ، خارجہ، قانون اور ثقافت ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹریز شامل ہوں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ کون سے تحائف نیلام کیے جائیں گے اور کون سے تحائف تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ سفارتی آداب کے تحت تحفہ لینا ناگزیر ہو تو اسے توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا۔
نئے رولز کے تحت ملنے والا تحفہ 30 دن کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا لازم ہوگا۔ بیرون ملک دورے کی صورت میں واپسی کے 30 دن کے اندر تحفہ جمع کرانا ہوگا، جبکہ الگ جہاز سے آنے والے تحفے کے لیے 60 دن کی مہلت مقرر کی گئی ہے۔
گریڈ 1 سے 4 تک کے ملازمین نقد انعام اپنے پاس رکھ سکیں گے۔ مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہ کرانے کی صورت میں عدالت میں شکایت درج کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تحائف کی مارکیٹ ویلیو ایف بی آر اور نجی تخمینہ کار طے کریں گے۔ دونوں تخمینوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق کی صورت میں تیسرے تخمینہ کار کی رائے حتمی ہوگی۔ حوالہ قیمت کے تعین کے لیے اے آئی کو بھی استعمال کیا جاسکے گا۔
ہتھیاروں کی قیمت پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (پی او ایف) واہ طے کرے گی۔ نئے قواعد کے مطابق تحائف کی حفاظت گریڈ 20 کے افسر کے سپرد ہوگی۔
توشہ خانہ کے اسٹور روم میں سی سی ٹی وی کیمرے اور تالہ بندی لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ تحائف کی حفاظت اور ریکارڈ کو یقینی بنایا جاسکے۔نوٹیفکیشن کے مطابق توشہ خانہ میں موجود تمام تحائف کا ریکارڈ اور ان کی تصاویر ویب پورٹل پر شائع کی جائیں گی۔