خیبرپختونخوا پولیس کے سابق ڈی آئی جی محمد ادریس خان نے کہا ہے کہ صوبے میں پولیس سے متعلق مجوزہ تبدیلیوں کے نتیجے میں گریڈ 18 سے اوپر کے افسران کی تقرریوں کا اختیار وزیراعلیٰ کو دینے کی بات کی جا رہی ہے، جس سے آئی جی کی حیثیت اور پولیس کی آپریشنل خودمختاری متاثر ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس اپنے آئی جی کو جواب دہ ہوگی یا صوبائی حکومت اور وزرا کو۔
آزاد ڈیجیٹل کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 میں صوبائی حکومت کو پولیس کی اعلیٰ سطح کی تقرریوں، تبادلوں اور پالیسی سازی میں زیادہ اختیار دینے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔
ترقیوں پر بھی سوال
محمد ادریس خان نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس کے معاملات میں سیاسی اور حکومتی اثر و رسوخ بڑھا تو پولیس افسران کی ترقیاں کارکردگی کی بنیاد پر ہوں گی یا چاپلوسی کی بنیاد پر؟
انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر پہلے ہی دو ہفتے قبل اندازہ ظاہر کر چکے تھے کہ خیبرپختونخوا حکومت پولیس ریفارمز کو رول بیک کرنے اور آئی جی کے اختیارات کم یا ختم کرنے کی طرف جا رہی ہے۔
حکومت کے اقدامات پر سوال
محمد ادریس خان نے کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے مختلف اقدامات کو دیکھتے ہوئے محسوس کیا کہ حکومت پولیس کے حوالے سے کچھ کرنے جا رہی ہے۔
مختلف اوقات میں پولیس کے مختلف افسران کو غیر ضروری، غیر قانونی یا غیر آئینی طریقے سے بلانے اور ان پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی گئیں، ان کا کہنا تھا کہ انہیں محسوس ہوا کہ پولیس کو ایک طرف رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بیوروکریسی کا کردار
ادریس خان نےکہا کہ خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی میں تین گروپس ہیں جو اپنے پسندیدہ افسران کو مختلف عہدوں پر لگوانا چاہتے ہیں اور اسی عمل کے ذریعے پولیس میں بھی مداخلت کی کوشش کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کی خواہش تھی کہ ایسے پولیس افسران تعینات کیے جائیں جو ان کے کام آگے بڑھائیں، تاہم پولیس کی جانب سے مزاحمت بھی کی گئی،انہوں نے کہا کہ خیبر اور سوات سمیت بعض علاقوں میں اس کوشش میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی۔
امن کمیٹیوں کا معاملہ
محمد ادریس خان نے بنوں اور لکی مروت میں امن کمیٹیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے امن کمیٹیاں بنائی گئیں اور بعد میں ان کے ذریعے ہڑتالیں کروائی گئیں،انہوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ مؤقف ان کی اطلاعات اور اپنی assessment کی بنیاد پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گنڈاپور کے دور اور خصوصاً سہیل آفریدی کے دور میں پولیس کے حاضر سروس اہلکاروں اور مختلف سیاسی و مقامی حلقوں سے وابستہ افراد کو اکٹھا کرکے امن کمیٹیوں کی شکل دی گئی،انہوں نے کہا کہ ان افراد میں پشتون تحفظ موومنٹ، محمود خان اچکزئی کے حلقے اور مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت سے وابستہ افراد بھی شامل تھے۔
پولیس اہلکاروں کو سادہ لباس
انٹرویو میں جب سوال کیا گیا کہ کیا سویلین افراد کو پولیس کا یونیفارم پہنایا گیا، تو ادریس خان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ اس کے برعکس تھا،ان کے مطابق پولیس کے حاضر سروس اہلکاروں کو سادہ کپڑے پہنائے گئے اور انہیں سویلین افراد کے ساتھ ملا کر امن کمیٹیوں میں شامل کیا گیا،انہوں نے کہا کہ یہ عمل پولیس رولز اور آئین کے خلاف تھا۔
پولیس کو کمزور کرنے کا پہلا وار
ادریس خان نے امن کمیٹیوں کے قیام کو پولیس کو کمزور کرنے کی جانب پہلا وار قرار دیا،ان کا کہنا تھا کہ پولیس آرڈر اور پولیس ایکٹ کے تحت پولیس کا ایک باقاعدہ کمانڈ اور انتظامی نظام موجود ہے اور 2017 کا خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ سابق آئی جی ناصر درانی کی پولیس اصلاحات کے نتیجے میں سامنے آیا تھا، جسے عمران خان کے دور حکومت اور پرویز خٹک کے دور میں نافذ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل پولیس رولز کے مطابق جنگی حالات کے علاوہ سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں کے لیے ہتھیار لے کر چلنے کے حوالے سے بھی پابندیاں موجود تھیں، کیونکہ اس سے پولیس اہلکار اور عام شہری میں فرق کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
بھتے اور ذاتی دشمنیاں
محمد ادریس خان نے کہا کہ امن کمیٹیوں کے قیام کے بعد بعض لوگوں نے اپنی ذاتی دشمنیاں نکالنے اور بھتے وصول کرنے کے لیے اس نظام کا استعمال شروع کیا، جب ڈی پی او نے اس معاملے پر سوال اٹھایا تو ہڑتال کی گئی،انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے خود اس معاملے کو اٹھایا تو انہوں نے اسے صوبائی حکومت کی سازش قرار دیا تھا۔
بنوں جرگے کا حوالہ
ادریس خان نے تقریباً چار سال قبل بنوں میں ہونے والے ایک جرگے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرگہ محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں ہوا تھا،انہوں نے اپنے دعوے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں بعض سیاسی جماعتوں اور گروہوں کے مؤقف کو دیکھتے ہوئے دہشت گردی کے معاملے میں مختلف ڈاٹس آپس میں جڑتے ہیں۔
انہوں نے پی ٹی ایم، محمود خان اچکزئی، پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمٰن کا نام لیتے ہوئے ان پر دہشت گردوں کے ساتھ ہمدردی یا تعاون کا الزام عائد کیاتاہم یہ ان کا اپنا سیاسی و تجزیاتی مؤقف تھا۔
قبائلی اضلاع کے انضمام کا معاملہ
انٹرویو میں قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا معاملہ بھی زیر بحث آیا،ادریس خان نے کہا کہ بعض حلقے اس انضمام کے خلاف ہیں،انہوں نے کہا کہ انضمام کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے عوام کو تعلیم، ترقی، عدالتوں اور پولیس سمیت ریاستی اداروں تک رسائی حاصل ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں :خیبر پختونخواہ پولیس بدترین سیاسی ونگ میں تبدیل، 2026 پولیس ایکٹ کی کاپی آزاد ڈیجیٹل کے پاس
پولیس ریفارمز اور پشاور ہائیکورٹ
محمد ادریس خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے امن کمیٹیوں سے لے کر پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے تک مختلف واقعات کو جوڑ کر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ صوبائی حکومت سیاسی مقاصد کے لیے پولیس کے اختیارات کم کر رہی ہے،انہوں نے کہا کہ یہی وہ پس منظر تھا جس کی بنیاد پر انہوں نے پہلے ہی اندازہ ظاہر کیا تھا کہ پولیس ریفارمز کو واپس لینے کی کوشش کی جائے گی۔
امن کمیٹیوں کی ہڑتالیں
ادریس خان نے کہا کہ بنوں اور لکی مروت میں امن کمیٹیوں نے ہڑتالیں کیں، تاہم متعلقہ ڈی آئی جی اور ڈی پی او نے محنت کرکے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی،ان کا کہنا تھا کہ بعد میں نئے ڈی آئی جی اور ڈی پی او تعینات کیے گئے اور ان کے بقول سازشوں کو ختم کیا گیا،انہوں نے مزید کہا کہ امن کمیٹیوں کے ذریعے مقامی امن کو نقصان پہنچا اور بعض افراد سے بھتے بھی وصول کیے گئے۔
دہشت گردوں کی مالی معاونت
انٹرویو میں ادریس خان نے امن کمیٹیوں کو دہشت گردوں کی مبینہ مالی معاونت کے معاملے سے بھی جوڑا،انہوں نے بنوں کے جانی خیل اور افغانستان سے ملحقہ علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، منشیات کی اسمگلنگ اور نارکو فائنانسنگ کا معاملہ موجود ہے۔
امن کمیٹیوں کو آگے لانے کے نتیجے میں ایسے کاموں میں اضافہ ہوا، کیونکہ پولیس کی جانب سے جن معاملات کی اجازت نہیں دی جاتی تھی، امن کمیٹیوں کی ڈیوٹی لگنے کے بعد وہ سرگرمیاں تیز ہوگئیں ،ادریس خان نے کہا کہ اس عمل کے نتیجے میں ملٹنٹس کی مالی معاونت کا راستہ بنتا ہے۔
نارکو منی کا ذکر
انٹرویو میں آزاد ڈیجیٹل کے میزبان فرحان ورک نے نارکو منی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سالانہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹس میں 7 سے 8 ارب ڈالر تک کے اعداد کا حوالہ دیا جاتا ہے،انہوں نے اس رقم کا موازنہ پاکستان کے آئی ایم ایف قرضوں سے کیا اور کہا کہ نارکو منی کی مالیت انتہائی بڑی ہے۔
قبائلی اضلاع اور عالمی عوامل
ادریس خان نے خیبرپختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع کو این ایم ڈیز یعنی New Merged Districts قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے گرد بین الاقوامی نوعیت کے عوامل بھی موجود ہیں۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے افغانستان میں 46 ارب روپے فراہم کیے جانے کا زکر بھی کیا اور کہا کہ ان کے خیال میں اس رقم کے ذریعے سرحدی علاقوں میں بعض سرگرمیاں کی جا رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ وہ ان معاملات میں وہی بات کرتے ہیں جو کاغذ یا دستاویز سے ثابت ہو یا پھر اپنی assessment کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔
بھارتی نیکسس
ادریس خان نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع، وزیرستان، کرم، بنوں اور خیبر سمیت سرحدی علاقوں میں ایک بھارتی نیکسس موجود ہے اور بعض عناصر مبینہ طور پر ان علاقوں میں عسکریت پسندوں کی تربیت اور سرگرمیوں میں کردار ادا کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ افغانستان کے جغرافیہ اور سرحدی صورتحال کو سمجھے بغیر اس معاملے کو نہیں سمجھا جاسکتا۔
گیس کے ذخائر اور بدامنی
محمد ادریس خان نے کہا کہ کرک، ہنگو اور خیبر سمیت جنوبی خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں گیس اور توانائی کے بڑے ذخائر موجود ہیں،اگر ان علاقوں میں بدامنی پیدا ہوتی ہے تو گیس کی تلاش اور پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہریوں کے لیے اہم پیغام جاری کردیا
موزیک وار کا حوالہ
ادریس خان نے سرحدی علاقوں میں جاری صورتحال کو موزیک وارقرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف گروپس ایک بڑے مقصد کے تحت ایک چھتری کے نیچے جمع نظر آتے ہیں،انہوں نے گل بہادر سمیت مختلف گروپس کا نام لیتے ہوئے ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش اور ای ٹی آئی ایم کا حوالہ دیا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان میں سے بعض حلقے پی ٹی آئی کے ہمدرد ہیں،یہ تمام عناصر اور مختلف نیٹ ورکس مل کر ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔
گیس اور بجلی بند کرنے کی دھمکی
انٹرویو میں ادریس خان نے حالیہ سیاسی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے پشاور میں گیس اور بجلی بند کرنے کی دھمکی دی،انہوں نے اس بیان کو گیس کے ذخائر، سرحدی بدامنی اور پولیس ریفارمز کے معاملے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ مختلف واقعات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو صورتحال کی ایک تصویر سامنے آتی ہے۔
پولیس کی صلاحیتوں پر بھی اعتراض
سابق ڈی آئی جی نے پولیس کی آپریشنل صلاحیتوں پر بھی بعض اعتراضات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو ہیومن ریسورس، فٹنس اور دیگر مسائل کا سامنا ہے، تاہم اس کے باوجود پولیس دہشت گردوں کے خلاف مقابلہ کر رہی ہے اور اہلکار اپنی جانیں دے رہے ہیں،انہوں نے کوہاٹ میں ایک پولیس افسر کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار مشکل حالات میں بھی مقابلہ کر رہے ہیں۔
پولیس کے اختیارات کم کرنے پر سوال
ادریس خان نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس پہلے ہی انسانی وسائل اور آپریشنل مسائل کا سامنا کر رہی ہے تو اس کے اختیارات مزید کمزور کیوں کیے جا رہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پولیس کو کمزور کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض سیاسی حلقے فوج کے خلاف پہلے ہی بیانات دیتے رہے ہیں اور اب ان کے سامنے ریاستی سطح پر ایک اہم ادارہ پولیس رہ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اسلام آباد پولیس کی چھٹیوں پر پابندی عائد
پسند کا آئی جی کیوں؟
ادریس خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ سکتا ہے کہ علاقے کو جاننے والا مقامی یا اپنی مرضی کا آئی جی ہونا چاہیے۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر اپنی مرضی یا مقامی افسر ہی کی شرط ہے تو پھر دوسرے محکموں میں بیرونِ صوبہ افسران کو تعینات کیوں کیا جاتا ہے؟انہوں نے زمان پارک میں نفری تعینات کرنے والے ایک سابق آئی جی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض حلقوں کو ایسا آئی جی پسند ہے جو ان کی مرضی کے مطابق کام کرے۔
آئی جی کی تقرری پر سوال


