مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے زہر دینے کا طریقہ پوچھ کر اپنے والد کو زہر دینے کی کوشش کرنے والے 17 سالہ طالب علم کو این سی سی آئی اے پنجاب نے بہاولپور سے گرفتار کر لیا۔ ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب حسام بن اقبال کی ہدایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق گرفتار نوجوان بہاولپور کا رہائشی اور سیکنڈ ایئر کا طالب علم ہے۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور اس کے والد کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے۔ بتایا گیا ہے کہ والد سے ناراضی کے باعث اس نے انہیں نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔
تحقیقات کے مطابق نوجوان امریکی کرائم ڈراما سیریز بریکنگ بیڈدیکھنے کے بعد کیمیا دان بننے میں دلچسپی لینے لگا تھا۔ اس نے گھر میں ایک چھوٹی سی لیبارٹری بھی قائم کر رکھی تھی، جہاں وہ کیمیائی تجربات کرتا تھا۔
معلومات کے مطابق نوجوان نے اپنے والد کو زہر دینے کے لیے آسٹریلیا اور اسلام آباد سے کیمیائی مواد منگوایا اور اسے گھر میں تیار کیا۔ اس نے ایک مرتبہ اپنے والد کو زہر دیا، تاہم اس کوشش کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
بعد ازاں نوجوان نے مصنوعی ذہانت سے دوبارہ رہنمائی طلب کی اور پوچھا کہ والد کو ایسا زہر کیسے دیا جائے جس سے ان کی موت واقع ہو جائے اور کسی کو اس کا علم بھی نہ ہو۔
اسی دوران اٹو جنریٹ کے ذریعے این سی سی آئی اے پنجاب کو نوجوان کے بارے میں معلومات موصول ہوئیں۔ ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب حسام بن اقبال نے فوری طور پر ٹیم تشکیل دی، جس نے بہاولپور میں کارروائی کرتے ہوئے نوجوان کو گرفتار کر لیا،حکام کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ کم عمر افراد کی آن لائن سرگرمیوں، جرائم پر مبنی فلموں اور ڈراموں کے اثرات اور مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ بچوں کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے، ان کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر والدین کی مناسب نگرانی اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق آگاہی کی ضرورت بھی اس واقعے کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گئی ہے۔