ہم دہشتگرد نہیں، جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر رہے ہیں، ایرانی صدر

ہم دہشتگرد نہیں، جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر رہے ہیں، ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران دہشتگرد نہیں بلکہ جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ خود دہشتگردی کرتے ہیں، وہی ایران پر دہشتگرد ہونے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کا حصول ایران کا حق ہے۔ ایران کو ایٹمی توانائی کی ضرورت ہے، ایٹم بم کی نہیں،ایرانی صدر نے کہا کہ ایران پر دہشتگردی کے الزامات لگانے والے خود دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران میں ایک رہنما کو قتل کیا گیا جبکہ ایک اسکول کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا گیا،انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی خواتین اور بچوں سمیت عام شہری بھی ان حملوں میں مارے گئے۔

یہ بھی پڑھیں :جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت، ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کو امریکا کے ویزے جاری

مسعود پزشکیان نے امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں سینکڑوں افراد مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جواب میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، شہریوں کو نہیں،ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کسی پر جارحیت نہیں کرنا چاہتا بلکہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کا حق رکھتا ہے،انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایران کے خلاف عائد الزامات اور خطے میں جاری کشیدگی کو حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ خطے کے مسائل کا حل بیرونی مداخلت کے بجائے علاقائی سطح پر تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو اپنے اختلافات مذاکرات اور باہمی تعاون کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔

ایرانی صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو پرامن جوہری توانائی کی ضرورت ہے اور اس کا مقصد ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ٹیکنالوجی کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

editor

Related Articles