پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو متوقع احتجاج کے پیش نظر حکومت نے اسلام آباد اور پشاور کے درمیان اہم شاہراہ موٹروے کو بند کردیا ہے، جس کے باعث دونوں شہروں کے درمیان موٹروے کے ذریعے آمدورفت متاثر ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ احتجاجی قافلوں کی اسلام آباد آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کی جانب آنے والے اہم راستوں پر سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں، جبکہ موٹروے کے مختلف مقامات پر ٹریفک کی روانی روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو احتجاج کے اعلان کے بعد اسلام آباد کی جانب ممکنہ طور پر آنے والے قافلوں کے پیش نظر انتظامیہ نے اہم داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔
خیبرپختونخوا سے اسلام آباد آنے والی ٹریفک کے لیے اہم ترین راستوں میں شامل اسلام آباد، پشاور موٹروے کو بند کیے جانے کے بعد شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑسکتے ہیں۔
احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کی جانب آنے والی دیگر اہم شاہراہوں پر بھی ٹریفک پابندیوں اور سیکیورٹی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
موٹروے کے علاوہ بعض مقامات پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ احتجاجی قافلوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جاسکے۔
حکام کی جانب سے اہم داخلی راستوں، حساس مقامات اور ریڈ زون کے اطراف بھی سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔
27 ستمبر کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک کے بعض علاقوں میں 26 اور 27 ستمبر کو موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کے فیصلے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسی طرح وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے لیے دیگر اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں جبکہ مختلف مقامات پر اضافی نفری تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اسلام آباد، پشاور موٹروے کی بندش کے باعث دونوں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
موٹروے کی بندش کے دوران مسافروں کو سفر سے قبل متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ٹریفک صورتحال سے آگاہی حاصل کرنے اور متبادل راستوں کے بارے میں معلومات لینے کی ضرورت ہوگی۔
حکام کی جانب سے احتجاج اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ٹریفک کی روانی اور اہم شاہراہوں سے متعلق فیصلوں میں صورتحال کے مطابق تبدیلی بھی کی جاسکتی ہے۔