یورپی یونین کی اعلیٰ ترین نمائندہ برائے خارجہ امور و سیکیورٹی پالیسی کایا کالاس نے پاکستان کو خطے کی ایک ناگزیر بڑی طاقت اور یورپی یونین کا انتہائی اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔
انہوں نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک اہم اور مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے کی بڑی طاقت ہے۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاک یورپی یونین مشترکہ اسٹریٹیجک مذاکرات کی صدارت کی اور تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیات اور سیکیورٹی سمیت متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ پچھلے سال نومبر میں ہونے والے اسٹریٹیجک مذاکرات کے بعد سے دونوں فریقین کے مابین مثبت پیشرفت جاری ہے اور کایا کالاس کا موجودہ دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال رونما ہونے والی پاک بھارت جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران پاکستان اور یورپی یونین مسلسل قریبی رابطے میں رہے۔
اسحاق ڈار نے ایران امریکا کشیدگی کو کم کرنے میں یورپی یونین کے بھرپور تعاون اور پاکستان کی کامیاب ثالثی کوششوں کو سراہنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن، سفارتکاری اور تمام تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا اصولی کردار جاری رکھے گا۔
نائب وزیراعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران سیکیورٹی اور دہشتگردی کے امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس میں بالخصوص افغان سرزمین پر ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ کی موجودگی اور وہاں سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردانہ کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
پاکستان کا مسئلہ کشمیر پر مؤقف
انہوں نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے روایتی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس دیرینہ تنازع کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور برقرار ہے اور حالیہ بین الاقوامی عدالتی فیصلے نے اس معاملے پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی مکمل تائید کی ہے۔
جیو پولیٹیکل بحران، پاک بھارت جنگ اور ثالثی کا سفر
گزشتہ سال کا عرصہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے انتہائی ہولناک اور بحرانی رہا، جہاں ایک طرف پاکستان اور بھارت کے مابین فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور سرحدی کشیدگی کے بعد باقاعدہ جنگی صورتحال پیدا ہو گئی، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ ان دونوں بڑے بحرانوں نے عالمی امن کو داؤ پر لگا دیا تھا۔
ان نازک حالات میں پاکستان نے فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر دباؤ برداشت کیا اور خطے کو بڑی تباہی سے بچانے کے لیے متحرک سفارتکاری کا آغاز کیا۔ پاکستان نے ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے کشیدگی کو کم کرانے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، تو دوسری طرف یورپی یونین نے پاک بھارت جنگ کے دوران دونوں جوہری ممالک پر مسلسل دباؤ ڈالا کہ وہ فضائی حملوں کے بجائے میز پر بیٹھ کر بات کریں۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس کا یہ دورہ اسی کامیاب سفارتکاری کا تسلسل ہے، جس کا مقصد بحرانوں کے بعد پاکستان کے ساتھ طویل مدتی اسٹریٹیجک اور معاشی شراکت داری کو نئی شکل دینا ہے۔
معاشی فوائد، جی ایس پی پلس کی شرائط اور سیکیورٹی چیلنجز
اس اہم پریس کانفرنس اور اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کا اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی محاذ پر درج ذیل اہم نکات سامنے آتے ہیں
چین اور امریکا سے بڑی برآمدی منڈی
کایا کالاس کا یہ اعتراف انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ یورپی یونین اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جو حجم کے لحاظ سے امریکا اور چین سے بھی بڑی ہے۔ یہ حقیقت پاکستانی معیشت کے لیے یورپی مارکیٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے۔
جی ایس پی پلس کا تسلسل اور کڑی شرائط
یورپی یونین نے پاکستان کے لیے ’جی ایس پی پلس‘ (ٹیکس فری تجارتی مراعات) کے فریم ورک کو دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند تو قرار دیا ہے، لیکن کایا کالاس نے واضح الفاظ میں یاد دہانی کرائی کہ یہ مراعات بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد سے مشروط ہیں۔
یورپ اب پاکستان سے گڈ گورننس، انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں مزید عملی اور واضح پیشرفت کا تقاضا کر رہا ہے، جو پاکستانی مینوفیکچررز اور حکومت کے لیے ایک مستقل چیلنج رہے گا۔
دفاع کا حق اور افغان سرزمین کا چیلنج
یورپی یونین کی جانب سے بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان کو اپنے عوام کے دفاع کا حق دینا ایک بڑی سفارتی فتح ہے۔ اسحاق ڈار کی جانب سے افغان سرزمین پر ‘فتنہ الخوارج’ اور ‘فتنہ الہندوستان’ کا تذکرہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اب سرحد پار دہشتگردی کے خلاف عالمی برادری کو اعتماد میں لے کر سخت ترین اقدامات اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔
نوجوان نسل کے لیے خوشخبری
کایا کالاس کا یہ اعلان کہ پاکستان مسلسل 5 ویں سال بھی ‘ایراسمس پلس’ اسکالرشپس حاصل کرنے والے ممالک میں دنیا بھر میں سرفہرست رہا ہے، پاکستانی نوجوانوں اور تعلیمی شعبے کے لیے ایک شاندار اعزاز ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی ٹیلنٹ کو یورپ میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔