کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد نئے حربے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں، جے اے اے سی نے ’کالعدم‘ اسٹیٹس واپس لینے کے جعلی ٹیکرز سوشل میڈیا پر جاری کر دیے۔
سرکاری ذرائع نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پوسٹر جن میں کہا گیا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر نے ’کالعدم‘ واپس لے لیا ہے، تاہم حکومتی ذرائع نے اسٹیٹس واپس لینے کی خبروں کو جعلی نوٹیفکیشنز قرار دیتے ہوئے اسے جعلی قرار دے دیا۔
آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف جاری کردہ ’کالعدم‘ قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے۔
اس مقصد کے لیے نجی ٹی وی چینلز کے بریکنگ نیوز فارمیٹس کا غلط استعمال کرتے ہوئے جعلی تصاویر اور پوسٹرز شیئر کیے جا رہے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ تمام خبریں من گھڑت اور خود ساختہ ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے نہ تو کوئی ایسا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اور نہ ہی کمیٹی کے قانونی اسٹیٹس میں کسی قسم کی تبدیلی کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے ان پوسٹرز میں کمیٹی کو ’محب وطن‘ قرار دینے اور پابندی کے خاتمے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں بجلی کی قیمتوں اور آٹے پر سبسڈی کے معاملے پر عوامی احتجاج کی قیادت کر رہی تھی۔
احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات اور ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرنے کے بعد حکومت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے مذکورہ کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور ریاست میں جاری بے چینی کو ختم کرنا تھا۔
اس واقعے پر کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے جعلی پروپیگنڈے کا سہارا لیا جا رہا ہے تاکہ عوامی ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں اور اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کیا جا سکے۔
سوشل میڈیا کا غلط استعمال اور مستند میڈیا ہاؤسز کے لوگوز کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ کمیٹی عوامی دباؤ اور مسترد کیے جانے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
یہ حکمت عملی ایک ’مائنڈ گیم‘ ہے جس کا مقصد عوام میں ابہام پیدا کرنا ہے تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ تاہم، حکومتی سطح پر اس فوری تردید نے ان عناصر کے مذموم مقاصد کو ناکام بنا دیا ہے۔