کراچی میں بجلی کی فراہمی کے ذمہ دار ادارے ’کے الیکٹرک‘ نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ان دعوؤں اور مبینہ نوٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی صارف کا ماہانہ استعمال 200 یونٹس سے صرف ایک یونٹ بھی تجاوز کر گیا (یعنی 201 یونٹ ہو گیا)، تو وہ پروٹیکٹڈ (محفوظ) کیٹیگری سے مستقل طور پر باہر ہو جائے گا اور اسے 6,200 روپے تک کا بھاری اضافی بل دینا پڑے گا۔
کے الیکٹرک کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو گمراہ کن اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے اہلیت کے معیار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق اگر کوئی نان ٹائم آف یوز صارف کسی ایک مہینے میں 200 یونٹس کی حد کو عبور کر جاتا ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اس رعایتی سہولت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا ہے۔
کے الیکٹرک نے صارفین کی رہنمائی کے لیے اصل قانون کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا’اگر کوئی صارف کسی ایک مہینے میں 200 سے زیادہ یونٹس استعمال کر لیتا ہے اور پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے باہر ہو جاتا ہے، تو وہ دوبارہ یہ اسٹیٹس حاصل کر سکتا ہے۔
اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ صارف کو مسلسل آنے والے 6 مہینوں تک اپنا ماہانہ بجلی کا استعمال 200 یونٹس یا اس سے کم رکھنا ہوگا۔ جیسے ہی مسلسل 6 ماہ کا استعمال 200 یونٹس سے نیچے رہے گا، اس کا پروٹیکٹڈ اسٹیٹس خود بخود بحال ہو جائے گا۔‘
ترجمان نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر موجود غیر تصدیق شدہ پوسٹس پر کان دھرنے کے بجائے کسی بھی قسم کی معلومات کی تصدیق کے لیے کے الیکٹرک کے آفیشل کمیونیکیشن چینلز اور ہیلپ لائن سے رجوع کریں۔
اس وضاحت سے ان ہزاروں صارفین کو بڑی راحت ملی ہے جو اس خوف میں مبتلا تھے کہ ایک ماہ کی معمولی غفلت ان سے حکومتی سبسڈی مستقل طور پر چھین لے گی۔
پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین میں فرق کیا ہے؟
بجلی کے بلوں کے موجودہ نظام کے تحت رہائشی صارفین کو ان کے ماہانہ استعمال کی بنیاد پر 2 بڑی کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پروٹیکٹڈ (محفوظ) صارفین
یہ وہ گھریلو صارفین ہوتے ہیں جن کا بجلی کا استعمال مسلسل گزشتہ 6 ماہ کے دوران 200 یونٹس یا اس سے کم رہا ہو۔ عام طور پر یہ سنگل فیز کنکشن والے غریب اور کم آمدن والے خاندان ہوتے ہیں جن کے میٹر پر اے سی رجسٹرڈ نہیں ہوتا۔
حکومت انہیں بھاری سبسڈی دیتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے فی یونٹ قیمت انتہائی کم ہوتی ہے۔
نان پروٹیکٹڈ صارفین
اس کیٹیگری میں وہ تمام صارفین آتے ہیں جن کا ماہانہ استعمال کسی بھی ایک مہینے میں 200 یونٹس سے تجاوز کر جائے، یا جن کا منظور شدہ لوڈ زیادہ ہو۔
یہ صارفین حکومت کی طرف سے ملنے والی سبسڈی سے محروم ہو جاتے ہیں اور انہیں نہ صرف فی یونٹ مہنگا ریٹ دینا پڑتا ہے، بلکہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور تمام ٹیکسز کا پورا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔
افواہوں کا پھیلاؤ اور صارفین کی نفسیات
بجلی کے بلوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اس طرح کی افواہوں کا اتنی تیزی سے پھیلنا ملکی سطح پر موجود معاشی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔
مہنگائی کا خوف اور عوامی حساسیت
پاکستان میں بجلی کی قیمتیں پہلے ہی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، جس کی وجہ سے عوام بلوں کے معاملے پر انتہائی حساس ہو چکے ہیں۔
ایسے ماحول میں جب کوئی یہ سنتا ہے کہ ’صرف 1 یونٹ اوپر ہونے پر 6,200 روپے کا دھچکا لگے گا‘، تو لوگ بغیر تصدیق کے اسے شیئر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
کے الیکٹرک کا بروقت اقدام
کے الیکٹرک نے اس معاملے پر فوری وضاحت جاری کر کے ایک بڑے ہیجان کو روکا ہے۔ 6 ماہ کی مسلسل مانیٹرنگ کا قانون نیا نہیں ہے، بلکہ یہ پہلے سے رائج ہے، لیکن سوشل میڈیا پر اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔
صارفین کے لیے سبق
اس کیس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بجلی کی بچت اب محض ایک ترجیح نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔
اگر صارفین گرمیوں کے کسی ایک مہینے میں لوڈ بڑھنے کی وجہ سے پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکل بھی جائیں، تو وہ سردیوں کے مہینوں میں احتیاط کر کے (کم از کم 6 ماہ تک 200 سے کم یونٹس رکھ کر) دوبارہ سستے ہائیڈرو اور حکومتی سبسڈی والے نیٹ ورک کا حصہ بن سکتے ہیں۔