امریکا جنگ بندی پر عمل نہیں کر رہا، بحری ناکہ بندی اور لبنان میں جنگی جرائم اس کا ثبوت ہیں: باقر قالیباف

امریکا جنگ بندی پر عمل نہیں کر رہا، بحری ناکہ بندی اور لبنان میں جنگی جرائم اس کا ثبوت ہیں: باقر قالیباف

ایرانی چیف مذاکرات کار اور اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی اور لبنان میں جنگی جرائم میں اضافہ ثبوت ہے کہ امریکا جنگ بندی پر عمل نہیں کر رہا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی چیف مذاکرات کار اور اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بحری ناکہ بندی اور لبنان میں جنگی جرائم میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکا جنگ بندی کے تقاضوں پر عمل نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر فیصلے اور ہر انتخاب کی ایک قیمت ہوتی ہے اور بالآخر اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی جارحانہ کارروائی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور امریکی جارحیت حملے کے لیے استعمال ہونے والے مقامات پر ایرانی جوابی کارروائی کا سبب بنی۔

یہ بھی پڑھیں :ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، یہ ڈیل امریکا و اتحادیوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گی، ڈونلڈ ٹرمپ

اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال ہونے والے اڈوں، عسکری وسائل کو نشانہ بنانا حقِ دفاع ہے، ریاستوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی سر زمین یا وسائل دوسرے ممالک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لبنان میں صہیونی حکومت کے جرائم کا ذمے دار امریکا ہے، اعتماد کا فقدان، لبنان میں امریکی اوراسرائیلی اقدامات کی مسلسل تبدیلیاں سفارتی عمل میں تاخیر کا سبب ہیں، لبنان میں جنگ بندی امریکا کے ساتھ جنگ ​​کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا سکتی ہے، اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی منڈیوں اور سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles