انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے متعارف کروائے گئے نئے فارمیٹ کے بعد، سال 2027 میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کے کوالیفائر راؤنڈ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، جہاں اب صرف چیمپیئن بننے والی ٹیم کو ہی میگا ایونٹ کے مرکزی مرحلے میں براہِ راست رسائی دی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 10 ٹیموں پر مشتمل اس کوالیفائر ایونٹ کی فاتح ٹیم کو یہ سب سے بڑا فائدہ حاصل ہوگا کہ وہ ابتدائی ’سپر سیریز‘ کھیلنے کی کڑی شرط سے آزاد ہو کر سیدھی ورلڈ کپ کے مین راؤنڈ میں پہنچ جائے گی۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بالکل سال 2023 کے کوالیفائر جیسا ہی ہوگا، جس میں شریک 10 ٹیموں کو پہلے دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا اور پھر دونوں گروپس کی ٹاپ ٹیموں کے درمیان ہائی وولٹیج ’سپر سکس‘ مرحلہ کھیلا جائے گا۔
آئی سی سی کے طے کردہ نئے رولز کے مطابق ستمبر 2026 تک ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں سرفہرست رہنے والی 8 ٹیمیں اور ان کے ساتھ جنوبی افریقا اور زمبابوے (بطور میزبان) براہِ راست ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر جائیں گے۔ ان 10 ٹیموں کے بعد، کوالیفائر ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم الیونتھ (11ویں) ٹیم بن کر مرکزی مرحلے کا حصہ بنے گی۔
کوالیفائر کی دیگر پوزیشن ہولڈرز کے لیے قانون کافی سخت کر دیا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ میں دوسری، تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی تین ٹیموں کو ایک الگ ’سپر سیریز‘ کے کڑے امتحان سے گزرنا ہوگا، جہاں ان تینوں میں سے صرف ایک ہی ٹیم اگلے مرحلے میں پہنچ پائے گی جبکہ باقی 2 ٹیمیں صرف 2 میچز کھیل کر ایونٹ کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گی۔
اس 10 ٹیموں کے کوالیفائر میں درج ذیل ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی، آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں نچلے نمبروں پر موجود 2 فل ممبر (ٹیسٹ پلیئنگ) ٹیمیں، آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ لیگ 2 کی ٹاپ 4 بہترین ٹیمیں، کوالیفائر پلے آف کے مرحلے سے کامیابی حاصل کر کے آنے والی 4 ایسوسی ایٹ ٹیمیں شامل ہوں گی۔
ون ڈے کرکٹ کا پھیلاؤ اور آئی سی سی کے بدلتے قوانین
ماضی میں ون ڈے ورلڈ کپ کوالیفائر کا فارمیٹ ایسا ہوتا تھا جہاں فائنل میں پہنچنے والی دونوں ٹیمیں (رنر اپ اور ونر) براہِ راست ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر جاتی تھیں۔
جیسا کہ 2023 میں سری لنکا اور نیدر لینڈز نے کیا تھا۔ تاہم، کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی نے کھیل کو مزید مسابقتی اور سنسنی خیز بنانے کے لیے قواعد میں تبدیلیاں کی ہیں۔
سال 2027 کا ورلڈ کپ جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جانا ہے، جس میں مجموعی طور پر 14 ٹیمیں حصہ لیں گی۔
اس بڑے فارمیٹ میں جگہ بنانے کے لیے آئی سی سی نے رینکنگ اور کوالیفائرز کے معیار کو انتہائی سخت کر دیا ہے تاکہ صرف بہترین اور فارم میں موجود ٹیمیں ہی فائنل مرحلے تک پہنچ سکیں۔
نئے فارمیٹ کے عالمی کرکٹ پر اثرات
آئی سی سی کا یہ نیا نظام کرکٹ کی دنیا میں جہاں سنسنی لائے گا، وہی چھوٹی ٹیموں کے لیے مشکلات میں اضافہ کرے گا۔
غلطی کی کوئی گنجائش نہیں
پرانے فارمیٹ میں ٹیموں کے پاس فائنل تک پہنچ کر ورلڈ کپ کا ٹکٹ کٹوانے کا موقع ہوتا تھا، لیکن اب کوالیفائر کی فائنلسٹ ہونا کافی نہیں ہوگا۔
اگر آپ فائنل ہار گئے، تو آپ کو ’سپر سیریز‘ کے ایک اور اعصاب شکن مرحلے سے گزرنا پڑے گا، جہاں ایک بھی شکست ورلڈ کپ کا خواب چکنا چور کر سکتی ہے۔
ایسوسی ایٹ ممالک کے لیے بڑا چیلنج
لیگ 2 اور پلے آف سے آنے والی 8 ٹیموں کے لیے اب یہ سفر مزید کٹھن ہو جائے گا کیونکہ انہیں نچلی رینکنگ کی فل ممبر ٹیموں (جیسے ویسٹ انڈیز، سری لنکا، یا آئرلینڈ میں سے کوئی بھی ہو سکتی ہے) کو چیمپیئن بننے سے روکنا ہوگا، جو کہ ایک مشکل ٹاسک ہے۔
ون ڈے کرکٹ کی بقا کی جنگ
ٹی 20 لیگز کے اس دور میں ون ڈے کرکٹ کو پرکشش بنانے کے لیے آئی سی سی کا یہ اقدام بہترین ہے۔ اب ستمبر 2026 تک ہر ون ڈے سیریز فائنل کی طرح کھیلی جائے گی تاکہ ٹیمیں رینکنگ کے ذریعے براہِ راست کوالیفائی کر سکیں اور کوالیفائر کے اس طویل و کٹھن راستے سے بچ سکیں۔