2022 کے بعد بلین سونامی ٹری پراجیکٹ میں کیا پیش رفت ہوئی؟

2022 کے بعد بلین سونامی ٹری پراجیکٹ میں کیا پیش رفت ہوئی؟

پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے شروع کیے گئے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کو دنیا کے بڑے شجرکاری منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اپریل 2022 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ تاثر سامنے آیا کہ شاید یہ منصوبہ روک دیا گیا ہے، تاہم سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ منصوبہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ مختلف مراحل میں جاری رہا اور بعد ازاں اسے نئی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ماحولیاتی آلودگی کو قابو کرنے کا پنجاب نے ڈھونڈ لیا جدید حل،لیکوئیڈ ٹری متعارف

حکومتِ پاکستان کے مطابق جون 2023 میں ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا۔ اس کے بعد منصوبے کی باقی سرگرمیوں کو مکمل کرنے کے لیے جون 2024 تک نوکاسٹ ایکسٹینشن(No-Cost Extension) دی گئی، تاکہ جاری شجرکاری، قدرتی جنگلات کی بحالی اور دیگر اہداف کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔

قومی اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری معلومات کے مطابق 2023-24 کی دوسری سہ ماہی تک تقریباً 2.12 ارب پودے لگائے، قدرتی طور پر اگائے یا عوام میں تقسیم کیے جا چکے تھے، جو منصوبے کے مجموعی ہدف کا تقریباً 64 فیصد بنتا ہے۔

اس دوران مختلف صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی شجرکاری اور جنگلات کی بحالی کی سرگرمیاں جاری رہیں۔

مالی سال 2022-23 کی سرکاری کارکردگی رپورٹ کے مطابق صرف اسی ایک سال میں تقریباً 227 ملین پودے لگائے گئے۔ اس کے علاوہ جنگلی حیات کے تحفظ، مقامی کمیونٹیز کی شمولیت، نرسریوں کے قیام اور گرین روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی کام کیا گیا۔

بعد ازاں حکومت نے اس منصوبے کو نئے مرحلے میں داخل کرتے ہوئے “Upscaling of Green Pakistan Programme (Revised) 2024-2028” کے نام سے ازسرنو ترتیب دیا۔

اس نئے پروگرام میں صرف درخت لگانے تک محدود رہنے کے بجائے کاربن فنانسنگ، حیاتیاتی تنوع (Biodiversity)، قدرتی وسائل کے تحفظ، جدید مانیٹرنگ سسٹم اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع کو بھی شامل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور عالمی موسمیاتی ناانصافی کی کہانی

دوسری جانب کئی آزاد تحقیقی مطالعات نے اس منصوبے کے مثبت اثرات کی نشاندہی کی ہے۔ تحقیق کے مطابق بعض علاقوں میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ، ماحولیاتی بہتری اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافہ دیکھا گیا۔

تاہم ماہرین نے یہ بھی سفارش کی کہ منصوبے کی کامیابی کے لیے شفافیت، آزادانہ نگرانی، پودوں کی بقا کی شرح (Survival Rate) اور طویل المدتی دیکھ بھال کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 2022 کے بعد بلین سونامی ٹری پراجیکٹ بند نہیں ہوا بلکہ مختلف انتظامی اور پالیسی تبدیلیوں کے ساتھ جاری رہا۔ اگرچہ منصوبے کی رفتار اور ترجیحات میں تبدیلیاں آئیں، تاہم حکومت نے اسے نئے اہداف اور ماحولیاتی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا۔

آج بھی یہ پروگرام پاکستان میں جنگلات کے فروغ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ماحول کے تحفظ کے حوالے سے اہم قومی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

Related Articles