پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واضح کریں آیا وزیر دفاع خواجہ آصف کا حالیہ بیان حکومت کی سرکاری پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ حکومتی پالیسی نہیں تو وزیراعظم کو فوری طور پر وزیر دفاع کو خواجہ آصف کو لات مار کر کابینہ سے نکالیں
آزاد کشمیر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیر دفاع کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کی ابہام یا متنازع بیان کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا یہ کون سا شیر ہے جس نے کشمیر کے کئی علاقوں کو نقشے سے غائب کر دیا اور انہیں کشمیر کا حصہ ماننے سے انکار کر دیا؟ بلاول بھٹو نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ قوم کو بتائیں کہ آیا وفاقی وزیر کا بیان حکومت کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو وزیر دفاع کو کابینہ سے ہٹا دیا جائے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر ریاست پاکستان آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے سفارتی کردار ادا کر سکتی ہے تو اسے مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے بھی بھرپور اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور قومی مؤقف کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی پاکستان میں سیاسی بحران شدت اختیار کرتا ہے تو غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت کا موقع مل جاتا ہے اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کرنے والے فریق مذاکرات پر آمادہ ہیں تو وفاقی حکومت کو بھی کارروائیاں روک کر بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے کیونکہ موجودہ کشیدہ سیاسی ماحول کا سب سے زیادہ نقصان عام عوام خصوصاً کشمیریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کشمیر کے عوام کے حقوق، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔