حکومت نے کمرشل طیاروں میں استعمال ہونے والے ایندھن (جیٹ فیول) کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملکی فضائی شعبے پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 291 روپے 55 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جیٹ فیول کی قیمت میں مجموعی طور پر 53 روپے 58 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو حالیہ عرصے میں ہونے والے بڑے اضافوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے قومی اور نجی ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے اثرات مستقبل میں فضائی کرایوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اگر ایندھن کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو اندرونِ ملک اور بین الاقوامی پروازوں کے کرایوں میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔
فضائی صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایندھن ایئرلائنز کے مجموعی آپریشنل اخراجات کا ایک بڑا حصہ ہوتا ہے، اس لیے قیمتوں میں ہر اضافے کا براہِ راست اثر کمپنیوں کی مالی کارکردگی اور مسافروں کے سفری اخراجات پر پڑتا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت نے حالیہ دنوں پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا تھا، جس کے بعد اب جیٹ فیول کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ اور ایوی ایشن سیکٹر پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔