مسٹر بیسٹ کے نام پر خطرناک ڈسکارڈ اسکیم، پاکستانی صارفین بھی نشانے پر

مسٹر بیسٹ کے نام پر خطرناک ڈسکارڈ اسکیم، پاکستانی صارفین بھی نشانے پر

دنیا کے معروف یوٹیوبر مسٹر بیسٹ کے نام پر چلنے والی ایک خطرناک ڈسکارڈ اسکیم نے دنیا بھر کے صارفین کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں صارفین اس سائبر فراڈ کا شکار ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مہم کے ذریعے نہ صرف صارفین کے ڈسکارڈ اکاؤنٹس ہیک کیے جا رہے ہیں بلکہ ان کے کمپیوٹرز میں خطرناک میلویئر بھی انسٹال کیا جا رہا ہے، جو حساس معلومات چوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسکیم کیسے کام کرتی ہے؟

سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق حملہ آور عموماً کسی ہیک شدہ ڈسکارڈ اکاؤنٹ کے ذریعے صارفین کو پیغام بھیجتے ہیں۔ پیغام میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صارف نے ہزاروں ڈالر مالیت کے کریڈٹس یا انعامات جیت لیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :سمندر کا ننھا جانور جو سورج کی روشنی کھاتا ہے

اس کے ساتھ جعلی اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے جاتے ہیں جن میں مسٹر بیسٹ کے نام اور تصویر کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ صارفین کو دھوکا دیا جا سکے۔ بعد ازاں متاثرہ افراد کو ایک جعلی ویب سائٹ پر لے جایا جاتا ہے جہاں ان سے مختلف فیسوں، ٹیکسز یا وی آئی پی اپ گریڈ کے نام پر رقم طلب کی جاتی ہے۔

اصل خطرہ کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی فراڈ کے علاوہ اس اسکیم کا سب سے خطرناک پہلو ’’انفو اسٹیلر میلویئر‘‘ ہے۔

یہ میلویئر خاموشی سے کمپیوٹر میں موجود براؤزر ڈیٹا، محفوظ پاس ورڈز اور لاگ اِن معلومات چوری کرتا ہے۔ خاص طور پر یہ براؤزر میں محفوظ ’’آتھنٹیکیشن کوکیز‘‘ حاصل کر لیتا ہے، جن کی مدد سے ہیکرز بغیر پاس ورڈ درج کیے صارف کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اسی وجہ سے دو مرحلہ جاتی تصدیق 2ایف اے بھی بعض اوقات صارف کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر پاتی، کیونکہ حملہ آور پہلے سے فعال سیشن استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاسپورٹ تجدید کے لیے دفاتر کے چکر ختم، آن لائن سروسز کے لیے نئی ایپ تیار

منظم سائبر جرائم کا حصہ

ماہرین کے مطابق یہ کوئی انفرادی کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم عالمی سائبر کرائم نیٹ ورک کا حصہ ہے۔میلویئر تیار کرنے والے گروہ یہ سافٹ ویئر دوسرے جرائم پیشہ عناصر کو فروخت کرتے ہیں، جو اسے کریک شدہ سافٹ ویئر، پائریٹڈ ایپس، گیم چیٹس اور غیر معتبر ڈاؤن لوڈز کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔

متاثرہ افراد سے حاصل ہونے والی معلومات اور کوکیز کو بعد ازاں ڈیٹا بیس میں جمع کر کے دوسرے فراڈیوں کو فروخت کیا جاتا ہے، جو مزید صارفین کو نشانہ بناتے ہیں۔

خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟

سائبر سکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ پاس ورڈز براہِ راست براؤزر میں محفوظ نہ کریں۔ معتبر پاس ورڈ مینیجر استعمال کریں۔کریک شدہ سافٹ ویئر، پائریٹڈ ایپس اور غیر مصدقہ فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں۔ قابل اعتماد اینٹی وائرس اور سکیورٹی سافٹ ویئر استعمال کریں۔مشکوک لنکس اور غیر معروف ویب سائٹس سے دور رہیں۔

یہ بھی پڑھیں :اینڈرائیڈ صارفین ہو جائیں تیار، واٹس ایپ میں بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں

اگر اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو کیا کریں؟

ماہرین کے مطابق اگر آپ کا ڈسکارڈ اکاؤنٹ خودکار طور پر اسپیم پیغامات بھیجنا شروع کر دے یا غیر معمولی سرگرمی نظر آئے تو فوری کارروائی ضروری ہے۔

متاثرہ صارفین کو چاہیے کہ کسی محفوظ ڈیوائس سے تمام اہم پاس ورڈز تبدیل کریں، ضروری فائلوں کا بیک اپ لیں، کمپیوٹر کو مکمل طور پر ری سیٹ کریں اور اگر بینکنگ معلومات براؤزر میں محفوظ تھیں تو متعلقہ بینک سے بھی فوری رابطہ کریں۔

سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسٹر بیسٹ کے نام پر چلنے والی یہ جعلی مہم تیزی سے پھیل رہی ہے، اس لیے صارفین کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

editor

Related Articles