غیر ملکی شہریت کے لیے آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے کا ہوشربا انکشاف، سمیرا جہانگیر کا تہلکہ خیز اعتراف، پرتشدد احتجاج کی اصل کہانی بھی سامنے آ گئی
آزاد کشمیر میں بیرونِ ملک شہریت کے حصول کے لیے مقامی امن کو داؤ پر لگانے کا افسوس ناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کو اٹلی کی نیشنلٹی دلوانے کے لیے حالیہ پرتشدد احتجاج میں شرکت کی۔
اس واقعے نے انتشار کے پسِ پردہ چھپے انفرادی مفادات اور مذموم مقاصد کا پردہ مکمل طور پر چاک کر دیا ہے۔
احتجاج کی آڑ میں اٹلی کی شہریت کا منصوبہ
مظفرآباد کی مقامی رہائشی سمیرا جہانگیر کے حالیہ بیان نے ایک فسادی جتھے کی جانب سے کی جانے والی احتجاج کی کال کے پیچھے چھپے اصل حقائق دنیا کے سامنے رکھ دیے ہیں۔
خاتون نے انتہائی سادگی مگر واضح انداز میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے شوہر ذیشان کیانی گزشتہ 6 برس سے اٹلی میں مقیم ہیں۔
اپنے خاوند کی اٹلی کی نیشنلٹی کے عمل کو یقینی اور تیز تر بنانے کے لیے، وہ اپنی بیٹیوں کو ہمراہ لے کر چھتر کے مقام پر ہونے والے پرتشدد احتجاج میں شریک ہوئیں۔
اس اعتراف نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سڑکوں پر ہونے والا یہ ہنگامہ کسی نظریاتی جدوجہد کے بجائے خالصتاً ذاتی مفاد پر مبنی تھا۔
ذاتی مفاد کے لیے خطے کا امن اور عوام کا مستقبل داؤ پر
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بیرونِ ملک مفادات رکھنے والے افراد اپنے مقاصد کے لیے آزاد کشمیر کی سرزمین کو انتشار کا میدان بنا رہے ہیں۔
اپنا مستقبل یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں محفوظ بنانے کی خواہش رکھنے والے یہ عناصر، مقامی سطح پر عوام کے روزگار، کاروبار اور امن و امان کی صورتحال کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
یہ طرزِ عمل نہ صرف افسوس ناک ہے، بلکہ ان غریب اور محنت کش عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے جو ان ہڑتالوں اور مظاہروں کے نتیجے میں دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔
سیاسی پناہ اور شہریت کا کاروبار
آزاد کشمیر اور خطے کے دیگر حصوں میں یہ رجحان نیا نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے کئی واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آ چکے ہیں جہاں بیرونِ ملک مقیم افراد، یورپی ممالک یا امریکا میں ’سیاسی پناہ‘ اور شہریت کے حصول کے لیے خود کو ریاستی جبر کا نشانہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے وہ اپنے اہلِ خانہ کو مقامی سطح پر ہونے والے مظاہروں، ہنگاموں اور انتشار کا حصہ بننے کی ترغیب دیتے ہیں، تاکہ ان کی تصاویر اور ویڈیوز کو بنیاد بنا کر غیر ملکی امیگریشن حکام کے سامنے کیس پیش کیا جا سکے۔
یہ ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہے جس کی بھاری قیمت مقامی معاشرے کو چکانی پڑتی ہے۔
تحریکِ آزادی کے ساتھ سنگین مذاق
واضح رہے کہ اس صورتحال کو آزاد کشمیر کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔’آزاد کشمیر کی ایک حساس اور تاریخی حیثیت ہے۔
جب کچھ افراد چند غیر ملکی پاسپورٹس کے لیے فسادی جتھوں کا حصہ بنتے ہیں، تو اس سے نہ صرف ریاست کا اندرونی ڈھانچہ کمزور ہوتا ہے، بلکہ مسئلہ کشمیر کی عالمی سطح پر موجود اخلاقی اور اصولی حیثیت کو بھی شدید ٹھیس پہنچتی ہے‘۔
یہ بھی واضح رہے کہ آزاد کشمیر کسی کی بیرونِ ملک نیشنلٹی کے حصول کی تجربہ گاہ نہیں ہے۔ اپنا ذاتی مفاد سات سمندر پار رکھ کر اس کی قیمت مقامی غریب عوام اور تحریکِ آزادی کے خون سے وصول کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جانی چاہیے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس شرپسند رجحان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
