لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر، دفتر خارجہ

لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر، دفتر خارجہ

حکومت پاکستان نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا ہے، وہ تین سال کی مدت کے لیے معاہدے کے تحت قائم کیے جانے والے جنرل سیکرٹریٹ کی سربراہی کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود بطور سیکرٹری جنرل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے جنرل سیکرٹریٹ کے انتظامی امور کی نگرانی کریں گے اور رکن ممالک کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مربوط بنانے میں کردار ادا کریں گے۔

سیکرٹریٹ ریاض میں ہوگا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا سیکرٹریٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری جنرل اسی سیکرٹریٹ کی سربراہی کرتے ہوئے معاہدے کے تحت طے پانے والے مشترکہ امور کو آگے بڑھائیں گے۔

پاکستان کو تین سالہ ذمہ داری

معاہدے کے تحت سیکرٹری جنرل کی ابتدائی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے اور اس عہدے کے لیے پاکستان سے تقرری کی گئی ہے۔ اس طرح لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود اس نئے دفاعی انتظام کے پہلے سیکرٹری جنرل ہوں گے۔

تین ممالک کا دفاعی تعاون

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے لیے قائم کیا گیا ہے،تینوں ممالک نے معاہدے کے تحت دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، باہمی تعاون اور مشترکہ دفاعی سرگرمیوں کو مزید منظم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مکہ معاہدہ خطے میں امن،سلامتی اور خوشحالی کے لیے ہے،وزیراعظم شہباز شریف

مشترکہ دفاعی صلاحیتوں پر توجہ

معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ ترقی اور پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے۔ اس کے علاوہ مسلح افواج کے درمیان رابطے اور باہمی تعاون کو بھی مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کرنے کا فیصلہ

مکہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے تعاون کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ریاض میں قائم ہونے والا سیکرٹریٹ معاہدے سے متعلق مشترکہ سرگرمیوں اور رابطہ کاری کے لیے مرکزی کردار ادا کرے گا۔

پاکستان کا اہم کردار

پہلے سیکرٹری جنرل کے طور پر پاکستانی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کی تقرری سے معاہدے کے ابتدائی ادارہ جاتی ڈھانچے میں پاکستان کو اہم ذمہ داری مل گئی ہے۔ ان کی سربراہی میں جنرل سیکرٹریٹ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو منظم کرنے کے لیے کام کرے گا۔

editor

Related Articles