خیبرپختونخوا حکومت کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 نے پولیس کے انتظامی ڈھانچے، اعلیٰ افسران کی تعیناتی پالیسی سازی نگرانی احتساب اور بھرتیوں کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلیوں کی بحث چھیڑ دی ہے۔
مجوزہ قانون میں صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کے اختیارات بڑھانے کی تجاویز سامنے آئی ہیں جبکہ پولیس حکام کی جانب سے ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ادارہ جاتی اور پیشہ ورانہ خودمختاری متاثر ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
مجوزہ قانون کے تحت آئی جی پولیس کی تعیناتی کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلی تجویز کی گئی ہے دستیاب رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت تین افسران پر مشتمل پینل صوبائی حکومت کو بھجوائے گی اور صوبائی حکومت ان میں سے آئی جی کا انتخاب کرے گی
بعض رپورٹس کے مطابق اگر صوبائی حکومت کسی نام سے اتفاق نہ کرے تو نیا پینل طلب کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے موجودہ نظام کے مقابلے میں اس تبدیلی سے آئی جی کی تقرری میں صوبائی حکومت کا کردار نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔
مجوزہ قانون میں پولیس پالیسی بورڈ کے ڈھانچے میں بھی تبدیلی کی تجویز سامنے آئی ہے وزیراعلیٰ کو پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی دینے اور پولیس کے اہم انتظامی و پالیسی معاملات میں صوبائی حکومت کا کردار بڑھانے کی تجویز ہے۔ موجودہ نظام میں پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی آئی جی پولیس کرتے ہیں اور ستمبر کے آغاز میں موجودہ آئی جی کی زیر صدارت اس بورڈ کا 83واں اجلاس بھی ہوا تھا۔
اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے معاملے میں بھی مجوزہ قانون اہم تبدیلیاں تجویز کرتا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ کو آر پی اوز ڈی پی اوز سمیت بعض اعلیٰ افسران کی تعیناتی اور تبادلوں میں اختیار دینے کی تجویز ہے ایک حالیہ رپورٹ میں پولیس حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ ڈی ایس پی ڈی آئی جی آر پی او اور ایڈیشنل آئی جی سطح کے افسران سے متعلق اختیارات بھی مجوزہ نظام میں صوبائی حکومت کے دائرے میں آنے کا امکان ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی اعلیٰ پولیس افسران کی پوسٹنگ اور تبادلوں سے متعلق سابقہ ترامیم کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور متعلقہ اختیارات آئی جی کو واپس کیے گئے تھے۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے مجوزہ قانون کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پولیسنگ صوبائی معاملہ ہے اور حکومت پولیس کے اختیارات کم نہیں بلکہ نظام میں چیک اینڈ بیلنس بہتر کرنا چاہتی ہے۔
پولیس میں بھرتیوں کے نظام میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق کانسٹیبل کی بھرتی ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی، ای ٹی ای اے، کے ذریعے کرانے کی تجویز ہے جبکہ ڈی ایس پی کی آسامیوں کو ترقی براہ راست بھرتی اور مقابلے کے امتحان کے ذریعے پر کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔
ایک رپورٹ میں ڈی ایس پی آسامیوں کے لیے 50 فیصد ترقی 30 فیصد براہ راست بھرتی اور 20 فیصد مقابلے کے امتحان کی تقسیم بیان کی گئی ہے، اس لیے حتمی تناسب مسودے کی منظوری کے وقت واضح ہوگا۔
مجوزہ قانون میں پبلک سیفٹی کمیشن کے نظام میں بھی تبدیلی کی تجویز ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمیشن کو پولیس کی نگرانی کارکردگی اور عوامی شکایات کے معاملات میں کردار دینے کی تجویز ہے جبکہ ارکان کی نامزدگی اور کمیشن کی سربراہی کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ ریجنل کمپلینٹس اتھارٹیز قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے جنہیں پولیس افسران کے خلاف شکایات کی تحقیقات کا اختیار دیا جائے گا۔
دوسری جانب پولیس کے اندر سے مجوزہ قانون پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سینئر پولیس حکام نے قانون کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ بعض مجوزہ شقوں سے پولیس کے معاملات میں سیاسی اثرورسوخ بڑھ سکتا ہے اور انتظامی و عملی خودمختاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آئی جی خیبرپختونخوا سے منسوب تحفظات میں بھی انتظامی، مالی اور عملی اختیارات کی منتقلی کے ممکنہ اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مجوزہ قانون میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز، ڈی آر سیز، کے مستقبل اور ارکان کی تقرری کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں زیر بحث ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق مسودے میں موجودہ ڈی آر سی نظام ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جبکہ پولیس حکام نے بعض اختیارات ہوم ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کیے جانے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
مجوزہ پولیس ایکٹ میں پولیس آپریشنز اور تفتیش کو الگ رکھنے انویسٹی گیشن اور کرائمز برانچز کو مزید بااختیار بنانے عوامی اجتماعات کے لیے بعض نئے انتظامی تقاضے متعارف کرانے اور پولیس شہدا کے بچوں کے لیے مخصوص کوٹے جیسی تجاویز بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد پولیس کے نظام کو بہتر بنانا اختیارات کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے چیک اینڈ بیلنس مضبوط کرنا اور صوبائی حکومت کے آئینی و انتظامی کردار کو واضح کرنا ہے دوسری جانب پولیس حکام کے تحفظات کا محور یہ ہے کہ اگر پالیسی سازی اعلیٰ پوسٹنگز انتظامی اختیارات اور نگرانی کے مختلف مراحل میں سیاسی انتظامیہ کا کردار بڑھ گیا تو پولیس کی کمانڈ اور پیشہ ورانہ خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔