پاکستان نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی تجارتی جہازوں اور بحری راستوں کو دی جانے والی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں، پاکستان اپنے بحری مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی تجارتی جہازوں کو دھمکیاں دینے اور بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات پر پاکستان کو گہری تشویش ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا یا ان کے خلاف دھمکیاں دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
ترجمان نے پاکستانی بحری اثاثوں اور تجارتی روٹس پر اپنا مؤقف سخت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا بحری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو ملک کی قومی سلامتی اور خود مختاری کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے تحت پاکستان اپنے بحری اثاثوں اور تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اور طاقت کے استعمال کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ تجارتی اور بحری جہازوں کو دھمکیاں دینا بین الاقوامی قوانین اور بحری آزادیاں فراہم کرنے والے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس سے علاقائی اور بحری سلامتی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے عزم کو دہرایا۔
خطے میں سفارتی تحرک اور ملاقاتیں
ترجمان نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے صبر و تحمل کی اپیل کی۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیرِ داخلہ نے حال ہی میں وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت اعلیٰ پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
پاکستان کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکا اپنے تنازعات کو جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کریں اور اسلام آباد ان تمام سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
دیگر سفارتی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے منیلا (فلپائن) میں آسیان ریجنل فورم کے اجلاس کے موقع پر متعدد علاقائی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔
بحیرہ احمر اور عرب کے سمندری راستوں میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سے عالمی تجارت اور رسد کا نظام شدید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
سعودی عرب، جو خطے میں اہم معاشی قوت ہے، کے تجارتی روٹس کو ملنے والی دھمکیوں سے خلیجی خطے اور جنوبی ایشیا کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پاکستان کا بڑا تجارتی حصہ انہی سمندری راستوں پر منحصر ہے، اس لیے خطے میں بحری قرق یا حملے پاکستان کی معاشی و دفاعی سلامتی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا یہ بیان پاکستان کی بحری پالیسی میں ایک بڑا اور فیصلہ کن موڑ دکھاتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنے دیرینہ دوست ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے بلکہ پہلی بار حوثی ملیشیا کو براہِ راست خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر حملہ قومی سلامتی پر حملہ تصور ہوگا۔
اقوامِ متحدہ کے قوانین کے تحت ‘طاقت کے استعمال کا حق’ برقرار رکھنے کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب اپنے تجارتی بحری راستوں کی خود حفاظت کرنے اور ضرورت پڑنے پر جواب دینے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے۔
دوسری طرف، ایرانی وزیرِ داخلہ کی اعلیٰ ترین سیول و ملٹری قیادت سے ملاقاتیں اور امریکا-ایران تنازع میں سفارت کاری پر زور دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں متوازن سفارت کاری قائم رکھتے ہوئے کسی بڑی جنگ کو روکنے کا حامی ہے۔