آٹے اور گندم کی نئی سرکاری قیمتیں مقرر، فلور ملز کو یومیہ 2 ہزار میٹرک ٹن گندم کی فراہمی کا فیصلہ

آٹے اور گندم کی نئی سرکاری قیمتیں مقرر، فلور ملز کو یومیہ 2 ہزار میٹرک ٹن گندم کی فراہمی کا فیصلہ

خیبرپختونخوا حکومت نے آٹے اور گندم کی نئی سرکاری قیمتوں کا اعلان کر دیا، 20 کلو آٹے کی ایکس مل قیمت 2500 روپے اور ریٹیل قیمت 2520 روپے مقرر، جبکہ گندم کی سرکاری اجرا قیمت 11200 روپے فی 100 کلو مقرر کر دی گئی۔

خیبرپختونخوا حکومت کے محکمہ خوراک نے صوبے بھر میں آٹے اور گندم کی نئی سرکاری قیمتوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

محکمہ خوراک کے مطابق فلور ملز کو یومیہ 2 ہزار میٹرک ٹن گندم کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رہے گی، تاکہ صوبے میں آٹے کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

نئے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں 20 کلو آٹے کی ایکس مل قیمت 2500 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ ریٹیل سطح پر اسی تھیلے کی قیمت 2520 روپے مقرر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آٹا ،چاول اور دالوں سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ گئے،شہری چکرا گئے

اسی طرح گندم کی سرکاری اجرا قیمت 11200 روپے فی 100 کلوگرام مقرر کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق گندم کا اجرا فوری طور پر نئی مقررہ قیمتوں پر شروع کر دیا جائے گا۔

محکمہ خوراک نے تمام فلور ملز کو نئی قیمتوں پر فوری عملدرآمد کی سختی سے ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ نئے نرخوں کے اطلاق کے ساتھ ساتھ فلور ملز کو ایس او پیز 2026 پر سختی سے عمل درآمد کا بھی پابند بنایا گیا ہے۔

فوڈ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے گندم کوٹہ ریلیز 2026 کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت تمام ضلعی فوڈ کنٹرولرز اور متعلقہ حکام کو باضابطہ نوٹیفکیشن ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ ضلعی سطح پر عملدرآمد میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔

خیبرپختونخوا کو ہر سال گندم کی طلب اور رسد میں بڑے فرق کا سامنا رہتا ہے۔ صوبے کی سالانہ ضرورت تقریباً 54 لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن ہے، جبکہ مقامی پیداوار محض 16 لاکھ 32 ہزار میٹرک ٹن کے قریب رہتی ہے، یوں صوبے کو سالانہ تقریباً 38 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا رہتا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے حکومت پنجاب سمیت دیگر صوبوں سے گندم خریدتی ہے۔

مزید پڑھیں:آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ ، 20کلوکا تھیلا کتنے کا ہوگیا؟

رواں سال کے دوران صوبے میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ دیکھنے میں آیا، جولائی میں پشاور سمیت مختلف علاقوں میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2900 روپے سے بھی تجاوز کر گیا تھا، جس کے باعث حکومت کو پرمٹ سسٹم نافذ کرنا پڑا تاکہ مارکیٹ میں مصنوعی قلت پر قابو پایا جا سکے۔

صوبائی حکومت نے کاشتکاروں سے براہِ راست گندم کی خریداری اور پاسکو سے اضافی گندم حاصل کرنے جیسے اقدامات بھی کیے تاکہ سرکاری ذخائر کو بہتر بنایا جا سکے۔

نئی سرکاری قیمتوں کا اعلان بظاہر عام صارفین کو ریلیف دینے کی کوشش دکھائی دیتا ہے، تاہم اصل چیلنج ان قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

ماضی میں بارہا دیکھا گیا کہ سرکاری نرخ مقرر ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں آٹا اسی قیمت پر دستیاب نہیں ہوتا اور ذخیرہ اندوزی، اضافی نقل و حمل اخراجات اور فلور ملز کی جانب سے ایس او پیز سے روگردانی جیسے عوامل قیمتوں میں فرق کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے آٹے اور روٹی کی قیمت مقرر کر دی گئی

اگر ضلعی فوڈ کنٹرولرز اور متعلقہ حکام مؤثر نگرانی کریں تو ہی یہ نئی قیمتیں عام صارف تک اصل صورت میں پہنچ سکیں گی، بصورتِ دیگر یہ اعلان محض کاغذی حد تک محدود رہنے کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ صوبے کی ساختی گندم کمی کا مستقل مسئلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب تک مقامی پیداوار میں بہتری اور ذخیرہ گنجائش میں اضافہ نہیں ہوتا، آئندہ بھی ایسے وقتاً فوقتاً نرخوں میں تبدیلی اور قلت کے خدشات برقرار رہیں گے۔

Related Articles