53 سال بعد بوتل میں بند بچی کا پیغام مل گیا، سوشل میڈیا نے خاندان سے ملا دیا

53 سال بعد بوتل میں بند بچی کا پیغام مل گیا، سوشل میڈیا نے خاندان سے ملا دیا

امریکا کی ریاست نیو جرسی میں دلدلی علاقے کی صفائی کے دوران ایک شخص کو بوتل میں بند 53 سال پرانا پیغام ملا، جو 9 سالہ بچی نے 1973 میں سمندر میں بہایا تھا۔ سوشل میڈیا کی مدد سے یہ پیغام بالآخر اس بچی کے خاندان تک پہنچ گیا، جس نے نصف صدی پرانی یادیں تازہ کر دیں۔

رپورٹ کے مطابق دی ٹائیڈ لینڈز انیشی ایٹو کے شریک بانی جان کاؤٹرمین اپر ٹاؤن شپ کے دلدلی علاقے میں معمول کی صفائی میں مصروف تھے کہ انہیں ایک بند شیشے کی بوتل ملی۔ بوتل کھولنے پر اس میں ایک دلچسپ اور مزاحیہ انداز میں تحریر کیا گیا پیغام موجود تھا، جو 53 سال قبل ایک بچی نے لکھوایا تھا۔

اغوا اور شارک سے بھرے سمندر کی فرضی کہانی

پیغام میں درج تھا کہ یہ بوتل 20 اگست 1973 کو اوشن سٹی کے سیکنڈ اسٹریٹ بیچ سے اس وقت سمندر میں بہائی گئی جب اس کے مبینہ اغوا کار اسے بحرِ اوقیانوس کے ساحل سے دور ایک جزیرے پر لے جا رہے تھے۔ پیغام میں مزید لکھا گیا تھا کہ “بے رحم اسفنج کے ماہی گیر” اسے شارک سے بھرے پانیوں میں غوطے لگانے پر مجبور کر رہے ہیں اور درخواست کی گئی تھی کہ یہ پیغام اس کے گھر کے پتے پر واپس بھیج دیا جائے کیونکہ شاید اس طرح اس کی جان بچ جائے۔

پیغام کے آخر میں ’’لاری بلیئر‘‘ کے نام کے ساتھ شکریہ بھی درج تھا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سب ایک معصوم بچی کی تخیلاتی اور مزاحیہ کہانی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول، موبائل اور انٹرنیٹ مہنگا ہونے کے بعد ادویات کی قیمتوں سے متعلق بھی اہم خبر آگئی

سوشل میڈیا نے 53 سال پرانی گتھی سلجھا دی

جان کاؤٹرمین نے بوتل اور اس میں موجود پیغام کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ لاری بلیئر یا ان کے اہل خانہ تک پہنچ سکیں۔ ان کی یہ کوشش کامیاب رہی اور پوسٹ بالآخر لاری بلیئر کی بہن ایلیسن اسپینسر تک پہنچ گئی۔

بڑی بہن نے پرانی یادیں تازہ کر دیں

ایلیسن اسپینسر نے بتایا کہ جب یہ پیغام لکھا گیا تھا تو لاری بلیئر کی عمر صرف نو سال تھی، جبکہ وہ خود 16 برس کی تھیں۔ ان کے مطابق لاری نے یہ پیغام انہیں بول کر لکھوایا تھا کیونکہ ان کی اپنی لکھائی زیادہ اچھی تھی۔ بعد ازاں دونوں بہنوں نے اوشن سٹی کے ساحل پر جا کر اس پیغام کو بوتل میں بند کیا اور سمندر کے حوالے کر دیا۔

53 برس بعد اسی بوتل کا دوبارہ مل جانا نہ صرف دونوں بہنوں کے لیے خوشگوار حیرت ثابت ہوا بلکہ یہ واقعہ سوشل میڈیا کی طاقت اور ماضی کی یادوں کو زندہ کرنے کی ایک منفرد مثال بھی بن گیا۔

Related Articles