پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے اور آخری مقابلے کے پہلے روز میزبان ٹیم نے محتاط بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھیل کے اختتام تک 74 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 239 رنز بنا لیے۔جسٹن گریوز اور کپتان روسٹن چیز کریز پر موجود ہیں اور دوسرے روز اننگز کو آگے بڑھائیں گے۔
ٹاس جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جبکہ پاکستان نے اس میچ کے لیے اپنی ٹیم میں چار تبدیلیاں کیں۔ عبداللہ شفیق، اویس ظفر، ساجد خان اور عبید شاہ کو حتمی الیون میں شامل کیا گیا۔ اویس ظفر اور عبید شاہ نے اس میچ کے ذریعے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ عبید شاہ کو محمد عباس جبکہ اویس ظفر کو بابر اعظم نے ڈیبیو کیپ پیش کی۔
بارش کے باعث کھیل کا آغاز مقررہ وقت سے تقریباً پندرہ منٹ تاخیر سے ہوا۔ خراب موسم کے سبب پہلے سیشن میں صرف 9 اعشاریہ 5 اوورز کا کھیل ممکن ہو سکا۔ اس دوران ویسٹ انڈیز نے ایک وکٹ کے نقصان پر 49 رنز بنائے جبکہ تیج نرائن چندرپال 15 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
دوسرے سیشن میں پاکستانی بولرز نے عمدہ واپسی کرتے ہوئے مزید تین وکٹیں حاصل کیں۔ برینڈن کنگ 46 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ کیوم ہوج 10 اور عامر جنگو 26 رنز بنا کر اپنی اننگز آگے نہ بڑھا سکے۔
تیسرے سیشن میں شائے ہوپ نے جسٹن گریوز کے ساتھ ذمہ دارانہ شراکت قائم کی تاہم وہ 29 رنز بنا کر محمد علی کی گیند کا نشانہ بن گئے۔ دونوں بلے بازوں نے پانچویں وکٹ کے لیے 53 رنز کی اہم شراکت قائم کی جس سے ویسٹ انڈیز کی پوزیشن مستحکم ہوئی۔
خراب روشنی کے باعث امپائرز نے مقررہ وقت سے پہلے ہی پہلے روز کا کھیل ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کا مجموعی اسکور 5 وکٹوں کے نقصان پر 239 رنز تھا۔ جسٹن گریوز 64 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ ہیں جبکہ کپتان روسٹن چیز 36 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں۔
پاکستان کی جانب سے محمد علی سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ساجد خان، عبید شاہ اور علی عثمان نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ دوسرے روز پاکستان کی کوشش ہوگی کہ ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز جلد سمیٹ کر میچ پر اپنی گرفت مضبوط بنائے۔