وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے حالیہ بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنقید موجودہ حکومت پر نہیں بلکہ گزشتہ 80 برس سے چلے آنے والے نظام پر تھی،انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی اور حکومت کے خلاف کسی قسم کی چارج شیٹ پیش نہیں کی گئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ وہ آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ ملک کا 80 سال پرانا نظام تباہ ہو چکا ہے،نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ میرابیان حکومت کے خلاف نہیں تھا بلکہ نظام کی خامیوں کی نشاندہی کے لیے دیا گیا تھا،انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بیان سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ ان کی تنقید نظام کی مجموعی کمزوریوں پر تھی۔
حکومت مدت پوری کرے گی
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت کے پانچ سال مکمل کرے گی،انہوں نے کہا کہ بعض عناصر حکومت اور وزیراعظم کے ساتھ ان کے تعلقات خراب دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور حکومت مضبوط ہے۔
وزارتوں کے آڈٹ کی تجویز
محسن نقوی نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ تمام وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے،انہوں نے کہا کہ اس سے عوام کے سامنے حقائق آئیں گے کہ کون سی وزارت بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے اور کہاں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف روزانہ 14 سے 16 گھنٹے کام کرتے ہیں اور اگر انہیں مؤثر نظام اور مکمل تعاون میسر آئے تو نتائج کئی گنا بہتر ہو سکتے ہیں،انہوں نے اپنی پارلیمانی حاضری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حاضری تقریباً 70 فیصد رہی ہے۔
حکومتی کامیابیوں کا ذکر
محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ حالات کے باوجود ایف بی آر کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا، سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں اور مختلف شعبوں میں اصلاحات نافذ کی گئیں،انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی فلاح کے لیے کام جاری رکھے گی اور اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی۔