اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کو جبر کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دہشتگردی کے خلاف عالمی ردعمل میں دوہرے معیار کے خاتمے اور تمام اقسام کی دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ عالمی سطح پر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی ضروری ہے، جس میں دہشتگردی کی تمام صورتوں کا مؤثر تدارک شامل ہونا چاہیے،انہوں نے کہا کہ غیر ملکی قبضے کے حالات میں سامنے آنے والی ریاستی دہشتگردی کے پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کشمیر کی صورتحال پر بات
پاکستانی مندوب نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کو کیے گئے اقدامات کے بعد کشمیری عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے حقِ خودارادیت کے معاملے پر عالمی برادری کی توجہ کے منتظر ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ ریاستی دہشتگردی کے واضح مظاہر کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات کو جائز سیاسی جدوجہد کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے،انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بغیر کسی امتیاز کے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔
افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات
پاکستانی مندوب نے افغانستان سے بڑھتے ہوئے دہشتگردی کے خطرے کا بھی ذکر کیا،انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ دہشتگرد گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل تک رسائی روکنا عالمی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔
عالمی تعاون پر زور
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دہشتگردی سرحدوں کی پابند نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی مذہب ہے، یہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے،انہوں نے اقوام متحدہ کے پابندیوں کے نظام اور انسدادِ دہشتگردی کے ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی امن کے لیے خطرہ بننے والے تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔