آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فضائیہ کا انتہائی اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ ‘ای تھری بی سینٹری’ ہنگامی سگنل جاری کرنے کے بعد سویلین ریڈار سے اچانک غائب ہو گیا، جس نے خطے میں سیاسی و عسکری ہیجان پیدا کر دیا ہے۔
’فلائٹ ریڈار 24‘ کی رپورٹس کے مطابق بوئنگ کمپنی کا تیار کردہ یہ کروڑوں ڈالر مالیت کا اڑتا ہوا ریڈار 19 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا جب اس نے عالمی ہنگامی کوڈ 7700 بھیجا۔
اس کے فوراً بعد طیارہ 22 ہزار فٹ سے تیزی سے نیچے آتا ہوا 17 ہزار 700 فٹ تک پہنچا اور پائلٹوں نے طیارے کا رخ خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز سے موڑ کر جزیرہ نما عرب کے داخلی فضائی راستے کی طرف کر دیا۔
اس صورتحال کو سنبھالنے کے لیے قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے سے ایئر ری فیولنگ ٹینکرز نے بھی متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں پرواز کی۔
ایران کی جانب سے حملے کی افواہیں اور امریکی ردِعمل
سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ پر یہ دعوے سامنے آئے کہ شاید اس پیش رفت کے پیچھے ایرانی فوج کا ہاتھ ہے اور طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔ تاہم، امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایسے تمام دعووں کو یکسر رد کرتے ہوئے کسی طیارے کی تباہی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
دفاعی ماہرین کا مؤقف
دفاعی اور فضائی امور کے ماہرین نے بھی طیارے کو نشانہ بنائے جانے کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کوڈ 7700 کا اطلاق تکنیکی نقائص جیسے انجن کی خرابی، آگ لگنے یا طبی ایمرجنسی کی صورت میں ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کے پیچھے کوئی فوجی کارروائی ہو۔
مزید برآں، عسکری طیارے سیکیورٹی اور ہنگامی لینڈنگ کے اصولوں کے تحت اپنے ٹرانسپونڈرز کو خود بند کر دیتے ہیں، جس سے وہ سویلین ریڈارز پر دکھائی دینا بند ہو جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی اور فوجی کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔
امریکا کی جانب سے نئی معاشی و عسکری پابندیوں کے بعد ایرانی حکام، بشمول عباس عراقچی، یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایسی پابندیاں ماضی کی طرح ناکام رہیں گی۔ خلیج کے اسٹریٹیجک راستوں پر قائم اس تناؤ کے ماحول میں کسی بھی غیر معمولی فضائی حرکت کو فوراً ایک بڑے تصادم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
‘ای تھری بی سینٹری’ محض ایک عام جہاز نہیں بلکہ امریکا کا ہوا میں قائم مکمل کنٹرول روم ہے، جو جنگی طیاروں کو سمت دکھانے اور دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ایسے حساس اثاثے کو اگر کوئی خطرہ لاحق ہوتا تو امریکی ردِعمل محض خاموشی نہیں ہوتا۔ سویلین ریڈار سے طیارے کا اوجھل ہونا ممکنہ طور پر کسی سوچی سمجھی ملٹری پروٹوکول اور تکنیکی فیصلے کا نتیجہ ہے تاکہ طیارے کو محفوظ مقام پر اتارا جا سکے۔ اس لیے اسے حملے کا نتیجہ قرار دینا قبل از وقت اور غیر حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے۔