آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں غیرملکی کھلاڑیوں سے متعلق اہم تبدیلیاں کردی گئی ہیں، آئندہ 2 سیزن کے لیے مردوں اور خواتین کی لیگ میں غیرملکی کھلاڑیوں کو لازمی شامل کرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بی بی ایل میں ٹیموں کے لیے کم از کم دو یا تین غیرملکی کھلاڑیوں کو اسکواڈ کا حصہ بنانا ضروری تھا، تاہم اب یہ پابندی ختم کردی گئی ہے۔
اس کے علاوہ غیرملکی کھلاڑیوں میں سے ایک کو گولڈ یا پلاٹینم کیٹگری میں رکھنے کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ گولڈ کیٹگری کے کھلاڑی کو 3 لاکھ ڈالر جبکہ پلاٹینم کیٹگری کے کھلاڑی کو 4 لاکھ 20 ہزار ڈالر تک معاوضہ دیا جاتا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بگ بیش لیگ میں ڈرافٹ سسٹم بھی ختم کرکے اوپن مارکیٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے کلبز کے لیے کنٹریکٹ ونڈو کھولنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ غیرملکی کھلاڑیوں کی لازمی شرط ختم ہونے سے مقامی آسٹریلوی کھلاڑیوں کو مالی طور پر فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
گزشتہ قوانین کے تحت ہر کلب کے ٹاپ 6 مارکی کھلاڑیوں کی مجموعی تنخواہ 17 لاکھ ڈالر مقرر تھی، تاہم آئندہ سیزن میں مارکی پلیئرز کی تعداد 6 سے کم کرکے 4 کردی جائے گی۔ بی بی ایل حکام کے مطابق نئی پالیسی کے تحت بہترین کھلاڑیوں کو زیادہ معاوضہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا، چاہے ان کا تعلق آسٹریلیا سے ہو یا کسی دوسرے ملک سے۔