میٹا کی زیرِ ملکیت مقبول ترین میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کے اکاؤنٹس کو مزید محفوظ بنانے کیلئے سیکیورٹی کے نظام میں تین اہم تبدیلیاں کردی ہیں ۔
پن کوڈ کی بجائے طویل پاسورڈ
واٹس ایپ اپنے اکاؤنٹ کی سیکیورٹی میں ایک بڑا اپ گریڈ کر رہا ہے جس میں ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کی تصدیق کے لیے چھ ہندسوں والے پن کو حروف، نمبرز اور خصوصی حروف پر مشتمل طویل پاس ورڈ کے آپشن کے ساتھ تبدیل کر رہا ہے۔
واٹس ایپ اس وقت دنیا بھر میں تین بلین سے زیادہ لوگ استعمال کرتے ہیں جس میں اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے طریقے میں نسبتاً چھوٹی تبدیلیاں بھی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔
پاس کیز
واٹس ایپ اب پاس کیز کے استعمال کو بھی بڑھا رہا ہے ، جس کے تحت روایتی پاس ورڈ کے ساتھ تصدیق کرنے کے بجائے، پاس کیز صارفین کو اپنی ڈیوائسز میں پہلے سے موجود سیکیورٹی کا استعمال کرتے ہوئے ازخود ویریفکیشن کی اجازت دیتی ہے ، جیسے کہ فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا اسکرین لاک۔
واٹس ایپ پہلے ایک ’پاس کی‘ کو سپورٹ کرتا تھا، صارفین اب ایک ہی اکاؤنٹ کے لیے متعدد پاس کیز بنا سکتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کے درمیان منتقل ہوتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق، ایک ارب سے زیادہ واٹس ایپ صارفین پہلے ہی پاس کی بنا چکے ہیں۔
پراسرار واٹس ایپ کالر
تیسری تبدیلی ایک مختلف مسئلہ کا حل پیش کرتی ہے جس میں صارف کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ کسی غیرمانوس نمبر کی کال کا جواب دینا ہے یا نہیں۔۔
اینڈرائیڈ پر، واٹس ایپ کال کرنے والوں کے بارے میں اضافی معلومات ظاہر کرے گا جو صارف کے رابطوں میں محفوظ نہیں ہیں۔ اس میں یہ شامل ہو سکتا ہے کہ آیا نمبر کسی دوسرے ملک سے آیا ہے اور آیا کال کرنے والا وصول کنندہ کے ساتھ کسی بٓھی واٹس ایپ گروپس کا اشتراک کرتا ہے۔
واٹس ایپ کی جانب سے کی جانے والی یہ تینوں تبدیلیاں صارفین کے اکاؤنٹس کو غیر مجاز رسائی اور مشکوک رابطوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
خاص طور پر مضبوط پاس ورڈ، متعدد پاس کیز اور نامعلوم کالرز سے متعلق اضافی معلومات صارفین کو اپنے اکاؤنٹس اور پرائیویسی کے حوالے سے مزید بہتر تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔