سی ڈی اے کا ملازمین کے لیے رہائش مینجمنٹ سسٹم کا اجرا ، درخواستیں طلب

سی ڈی اے کا ملازمین کے لیے رہائش مینجمنٹ سسٹم کا اجرا ، درخواستیں طلب

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے ملازمین کو رہائشی سہولت فراہم کرنے کی غرض سے ‘اکاموڈیشن مینجمنٹ سسٹم’ لانچ کر دیا ہے، جس کے تحت اہل ملازمین سے آن لائن درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔

ایڈمنسٹریشن ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری کردہ سرکولر کے مطابق، سی ڈی اے کے تمام اہل ملازمین پورٹل ams.cda.gov.pk پر جا کر اپنی رجسٹریشن مکمل کر سکتے ہیں۔

درخواست دینے کا یہ عمل سی ڈی اے اکاموڈیشن الاٹمنٹ ریگولیشنز 2025 کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ ملازمین کی سہولت کے لیے پورٹل پر اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تفصیلی رہنما اصول (گائیڈ لائنز) بھی فراہم کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:فائر اینڈ ریسکیو آپریشنز میں رکاوٹ، سی ڈی اے کا مؤثر سیکیورٹی کورڈن قائم کرنے کا مطالبہ

اتھارٹی نے درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 18 ستمبر 2026 مقرر کی ہے۔ ملازمین کی رہنمائی کے لیے تمام متعلقہ ڈائریکٹوریٹس کے انتظامی افسران کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جب کہ آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ نے دفتری اوقات کے دوران تکنیکی مسائل حل کرنے کے لیے ایک فوکل پرسن بھی نامزد کر دیا ہے۔

اہم تنبیہ اور نئی جنرل ویٹنگ لسٹ

سی ڈی اے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ کال کے دوران جو ملازمین درخواستیں جمع نہیں کروائیں گے، وہ کسی بھی صورت جنرل ویٹنگ لسٹ میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔ یہ لسٹ اس وقت تک کارآمد رہے گی جب تک اس میں شامل تمام اہل درخواست دہندگان کو رہائش الاٹ نہیں کر دی جاتی۔

اتھارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ بیچ کے خاتمے کے بعد ہی اگلی درخواستیں طلب کی جائیں گی اور اس کے بعد ریگولیشنز 2025 کے تحت ملازمین کی سنیارٹی کی بنیاد پر نئی ویٹنگ لسٹ تیار کی جائے گی۔

کافی عرصے سے سی ڈی اے ملازمین کی جانب سے سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کے نظام میں شفافیت لانے اور تاخیر کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

پرانے روایتی اور کاغذی نظام میں اکثر شکایات سامنے آتی تھیں کہ سنیارٹی کے باوجود حق دار ملازمین پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ملازمین کی اس دیرینہ مشکل کو حل کرنے اور میرٹ کی بالادستی قائم کرنے کے لیے ہی اب اس جدید ڈیجیٹل سسٹم کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

سی ڈی اے کا یہ قدم ملازمین کی فلاح و بہبود اور انتظامی شفافیت کی جانب ایک انقلابی اور خوش آئند فیصلہ ہے۔ ڈیجیٹائزیشن کی وجہ سے نہ صرف کرپشن اور اقربا پروری کے راستے بند ہوں گے بلکہ ملازمین کو گھر بیٹھے باآسانی اپنی درخواست کی پیشرفت دیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔

تاہم  اس سسٹم کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا آئی ٹی پورٹل بغیر کسی تکنیکی خرابی کے آخری تاریخ تک بحال رہتا ہے یا نہیں۔

اس کے علاوہ، انتظامیہ کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ کم پڑھے لکھے فیلڈ ورکرز یا نچلے درجے کے ملازمین کو اس آن لائن سسٹم کو سمجھنے اور استعمال کرنے میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، تاکہ کوئی بھی حق دار ملازم اس اہم موقع سے محروم نہ رہ جائے۔

Related Articles