نیپال میں سیلاب نے تباہی مچا دی ، 157 افراد ہلاک ، سینکڑوں لاپتہ

نیپال میں سیلاب نے تباہی مچا دی ، 157 افراد ہلاک ، سینکڑوں لاپتہ

نیپال اور چین کے تبت سے متصل ہمالیائی سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق ملک میں اب تک 157 افراد کی لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں جبکہ سینکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ قدرتی آفت کے باعث کئی بستیاں، سڑکیں، پل اور بجلی کے منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پہاڑی علاقے میں مٹی، چٹانوں، برف اور پانی پر مشتمل ایک بڑا ریلہ اچانک دریائی راستے میں داخل ہوا جس کے بعد سیلابی پانی نے قریبی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ متعدد مکانات، گاڑیاں اور دیگر تعمیرات پانی اور ملبے میں بہہ گئیں۔ شدید تباہی کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور امدادی ٹیموں کو متاثرہ مقامات تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

  یہ بھی پڑھیں :گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا پہاڑی علاقوں کے لیے الرٹ

نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موجود سینکڑوں سیاح اور مسافر بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔ ابتدائی ریکارڈ کے مطابق 384 مسافروں کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں جن میں غیر ملکی شہری بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ ان میں بھارت، امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔ کئی غیر ملکی سیاح اور یاتری ہمالیائی علاقوں میں مذہبی اور سیاحتی مقامات کی جانب سفر کر رہے تھے۔

متاثرہ علاقہ معروف مذہبی مقام کیلاش مانسروور کی جانب جانے والے راستے کے قریب بھی واقع ہے جہاں ہر سال مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں ہندو یاتری پہنچتے ہیں۔ اسی وجہ سے قدرتی آفت کے بعد لاپتا غیر ملکی شہریوں کی تلاش نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :طوفانی بارشوں ،سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، متعدد افراد جاں بحق ،محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری

چین کے تبت کے علاقے میں بھی قدرتی آفت کے باعث جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ چینی حکام کے مطابق گیریونگ کاؤنٹی میں تین افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں افراد لاپتا ہوئے ہیں۔ سرحدی علاقے میں مٹی کے تودے گرنے سے سڑکیں اور مواصلاتی نظام متاثر ہوئے جبکہ بجلی کی فراہمی بھی کئی مقامات پر منقطع ہوگئی۔

قدرتی آفت کے بعد نیپال میں فوج، پولیس اور دیگر امدادی اداروں کو متحرک کردیا گیا ہے۔ امدادی کارروائیوں کے لیے ہیلی کاپٹرز اور دیگر ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں تاہم شدید تباہی اور خراب زمینی حالات کے باعث ریسکیو ٹیموں کو کئی علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ بعض مقامات پر سڑکیں اور پل بہہ جانے کے باعث متاثرین تک رسائی انتہائی مشکل ہوگئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :اونچے درجے کے سیلاب نے شاہراہِ بابوسر بند کر دی، زیرو پوائنٹ پر آمدورفت روک دی گئی

اس واقعے کی وجہ کے حوالے سے ابتدائی طور پر 4.4 شدت کے زلزلے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تاہم امریکی جیولوجیکل سروے نے مزید تجزیے کے بعد واضح کیا کہ تباہ کن سیلاب سے قبل کوئی حقیقی زلزلہ نہیں آیا تھا۔ ادارے کے مطابق جو لرزش ریکارڈ ہوئی اسے ابتدائی طور پر زلزلہ سمجھا گیا تھا لیکن مزید سائنسی تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ توانائی ایک بڑے لینڈ سلائیڈنگ واقعے سے پیدا ہوئی تھی۔

editor

Related Articles