کینیڈا کے ساتھ ٹیرف دشمنی، ٹرمپ نے ’لیک اونٹاریو‘ کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا ‘ رکھ دیا

کینیڈا کے ساتھ ٹیرف دشمنی، ٹرمپ نے ’لیک اونٹاریو‘ کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا ‘ رکھ دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکہ‘ رکھنے کا حکم دے دیا، جس سے کینیڈا کے ساتھ جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق  وائٹ ہاؤس میں صدارتی حکم پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی محکمہ داخلہ کو جغرافیائی ناموں کے سرکاری نظام میں جھیل اونٹاریو کا نام جھیل امریکا درج کرنے کی ہدایت  کردی ۔

جھیل اونٹاریو امریکا کی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے درمیان واقع ہے تاہم امریکی صدر کے فیصلے کا اطلاق امریکی وفاقی حکومت کے سرکاری ریکارڈ اور حوالہ جات تک ہوگا۔

یہ ٹرمپ کی جانب سے جغرافیائی نام تبدیل کرنے کا ایک اور بڑا اقدام ہے ، اس سے قبل جنوری 2025 میں ٹرمپ کی جانب سے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرنے کے حکم کے بعد امریکی محکمہ داخلہ کے تحت ’یو ایس بورڈ آن جیوگرافک نیمز‘ نے تقریباً دو ہفتوں میں وفاقی حکومت کے سرکاری جغرافیائی ناموں کے نظام میں تبدیلی کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ٹرمپ کی مقبولیت کو بڑا دھچکا،اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی : سروے

جھیل اونٹاریو شمالی امریکہ کی پانچ عظیم جھیلوں میں سے ایک ہے اور اس کا ایک حصہ کینیڈا کے صوبے اونٹاریو جبکہ دوسرا حصہ امریکی ریاست نیویارک سے متصل ہے۔

مئی میں ہونے والے روئٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق 72 فیصد امریکیوں کی کینیڈا کے بارے میں مثبت رائے تھی۔ سروے میں شامل دیگر ممالک، جن میں جرمنی اور میکسیکو بھی شامل تھے، کے مقابلے میں یہ سب سے زیادہ شرح تھی اور صدر ٹرمپ کی اپنی منظوری کی شرح سے تقریباً دوگنی تھی۔

1909 کے ایک معاہدے کے تحت جھیل اونٹاریو کی سطحی حدود کا تقریباً 52 فیصد حصہ کینیڈا میں جبکہ باقی حصہ امریکی ریاست نیویارک میں واقع ہے۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات گزشتہ ہفتے اس وقت ناکام ہوگئے تھے جب دونوں ممالک نے تین روز تک جاری رہنے والے مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چوتھی بار صدارتی الیکشن لڑنے کی خواہش کا اظہار

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے دفتر نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرے کے لیے درخواست کا جواب نہیں دیا۔

editor

Related Articles