ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں معاملات کیسے چل رہے ہیں؟ شازیہ مری نے اندرونی کہانی بتادی

ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں معاملات کیسے چل رہے ہیں؟ شازیہ مری نے اندرونی کہانی بتادی

پاکستان پیپلز پارٹی کی ترجمان شازیہ مری کا کہنا ہے ہم وفاقی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے ، حکومت چاہتی ہے کہ پی پی پی احتجاج کرے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، ، کل قومی بجٹ پیش ہونا ہے ، بجٹ پر بحث کے لئے اجلاس کا انعقاد ہوا ، چیئرمین پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ارکان اسمبلی نے پارٹی قیادت کو تحفظات سے آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھاکہ وفاقی کابیبہ کا پی پی پی کے ساتھ رویہ اچھا نہیں ہے جس کی وجہ سے سیاسی معاملات میں دشواری پیش آ رہی ہیں اگر کسانوں کو ریلیف نہ ملے تو ہمیں بھگتنا پڑتا ہے حیرت اس بات پر ہے کہ وفاقی حکومت نے جن باتوں کا ہم نے معاہدہ طے کیا تھا اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔

دوسری بات یہ ہے کہ آمدہ بجٹ میں پیپلز پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے ساتھ ہم نےچلنے کی بھر پور کوشش کی کہ حالات اس نہج پر نہ آ ئیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے حکومت کیساتھ کی مگر ہماری توقع کے برعکس نتائج آئے، این ای سی کا اجلاس پہلے ہونا چا ہیے تھا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنا کیس این ای سی میں لڑا ہے، بلوچستان اور پنجاب کو کیا دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پی پی پی ایک سیاسی جماعت ہیں، اپنے منشور کے مطابق اِن پُٹ دیں گے۔

کیا یہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ پی پی احتجاج کرے، اب حکومت کو دیکھنا ہے اور ذمہ داری بھی اسی کی ہے، ہمیں لگ رہا تھا کہ شہباز شریف کو ہمارا ادراک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سولر انرجی میں کوئی چیز نظر نہیں آ رہی، کل اڑھائی بجے ایک اور اجلاس ہوگا، حکومت کو سپورٹ کیا ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ سمجھے، پی پی کو اپنے لوگوں کو جواب دینا پڑتا ہے، پنجاب سے ارکان نے بہت تحفظات کا اظہار کیا ہے، بلاول بھٹو زرداری اپنی پارٹی کے لوگوں کو سنیں گے۔

editor

Related Articles