ایشین گیمز میں بھارتی ہاکی امپائر پر جنسی ہراسانی کا الزام، جاپان سے واپس بھیج دیا گیا

ایشین گیمز میں بھارتی ہاکی امپائر پر جنسی ہراسانی کا الزام، جاپان سے واپس بھیج دیا گیا

بھارتی ہاکی امپائر اور ٹیکنیکل آفیشل گُرِندر سنگھ سنگھا کو ایشین گیمز کے دوران مبینہ جنسی ہراسانی کی متعدد شکایات کے بعد جاپان سے واپس بھارت بھیج دیا گیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گُرِندر سنگھ سنگھا نے مبینہ طور پر ناگویا میں قیام کے دوران ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہاکی عہدیدار اور ایک ہوٹل ملازم کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا تھا۔

ہاکی انڈیا کے ایک عہدیدار نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ملائیشیا کی ایک خاتون عہدیدار کی جانب سے جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرائے جانے کے بعد گُرِندر سنگھ سنگھا کو 2 روز قبل واپس بھارت بھیج دیا گیا۔

عہدیدار کے مطابق ایشین ہاکی فیڈریشن سے تفصیلی رپورٹ موصول ہونے کے بعد گُرِندر سنگھ سنگھا کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایشین ہاکی فیڈریشن کی رپورٹ منفی ہوئی تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور قصوروار ثابت ہونے کی صورت میں انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔

ایشین گیمز میں ہاکی مقابلوں کے لیے امپائرز اور ٹیکنیکل آفیشلز کا تقرر ایشین ہاکی فیڈریشن کرتی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ گُرِندر سنگھ سنگھا کے خلاف ایسی شکایت سامنے آئی ہو۔ 2025 میں رانچی میں ہاکی انڈیا لیگ کے دوران بھی ایک خاتون امپائر نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اس وقت ہاکی انڈیا نے الزامات کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، تاہم تحقیقات کے دوران کمیٹی کو گُرِندر سنگھ سنگھا کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا تھا۔

Related Articles