تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کہا ہے کہ پارٹی قیادت کی جانب سے کارکنوں کے لیے ایک نیا آپشن زیر غور ہے، جس کے تحت جلسہ کرنے کے بعد مارچ ختم کیا جاسکتا ہے۔
جنید اکبر کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت جب فیصلہ کرے گی، کارکن جلسہ کرکے مارچ ختم کرسکتے ہیں،ان کے اس بیان کے بعد پارٹی کے احتجاجی پروگرام اور آئندہ کی حکمت عملی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
کارکنوں میں بے چینی
تحریک انصاف کی جانب سے گزشتہ کئی روز سے لانگ مارچ کے حوالے سے کارکنوں کو متحرک رکھا گیا اور انہیں اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے تیار کیا جاتا رہا، تاہم اب جلسہ کرکے مارچ ختم کرنے کا آپشن سامنے آنے سے کارکنوں کے درمیان نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
نیا لالی پاپ
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پارٹی کی موجودہ حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو پہلے لانگ مارچ کے نام پر مسلسل انتظار اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اب ان کے لیے جلسے کی صورت میں ایک نیا لالی پاپ تیار کرلیا گیا ہے۔
یوٹرن کی بحث
تحریک انصاف کے کارکنوں کے لیے یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ احتجاجی پروگرام میں بار بار تبدیلیاں کیوں کی جا رہی ہیں اور اعلان کردہ مارچ کو جلسے تک محدود کرنے کی حکمت عملی کیوں اختیار کی جارہی ہے،گوکہ تحریک انصاف مذاکرات کی ٹیبل پر مکمل سرنڈر کرچکی ہے۔
قیادت پر سوالات
جنید اکبر کے بیان کے بعد پارٹی کارکنوں کے ایک حلقے میں قیادت کے فیصلوں اور احتجاجی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کارکنوں کے سامنے یہ صورتحال بھی زیر بحث ہے کہ پہلے لانگ مارچ کی تیاری، پھر مذاکرات اور اب جلسہ کرکے مارچ ختم کرنے کا آپشن کس سمت اشارہ کر رہا ہے کہ تمام قائدین کمپرومائزڈ ہیں۔
کارکنوں کا امتحان
تحریک انصاف کے کارکنوں کو اپنی قیادت کے فیصلوں کے ساتھ چلنے کے لیے ایک بار پھر نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی،گزشتہ چند روز کے دوران لانگ مارچ کے حوالے سے بدلتی صورتحال نے کارکنوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کی ہیں۔
فیصلہ قیادت کرے گی
جنید اکبر کے بیان کے مطابق اب حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کی جانب سے کیا جائے گا کہ احتجاجی مارچ کو جاری رکھا جائے یا جلسے کے بعد اسے ختم کردیا جائے، اس فیصلے کے بعد ہی تحریک انصاف کے کارکنوں کے آئندہ لائحہ عمل کی واضح تصویر سامنے آئے گی۔