وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مذاکرات اچھی چیز ہیں، معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، سیاسی مسائل احتجاج اور سڑکوں پر نکلنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سڑکوں پر مسائل حل نہیں ہوتے، ملک کو سیاسی کشیدگی کے بجائے عملی اقدامات اور معاشی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کے عمل کے ساتھ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورتحال پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو گورننس اور امن و امان کی صورتحال بہتر کرنا ہوگی، دہشت گردی کا خاتمہ کرکے عوام کی زندگی محفوظ بنانا ہوگی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر منصوبہ بنانا اور اسے مؤثر انداز میں نافذ کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ سیاست کا وقت نہیں، کوہاٹ اور بنوں میں لاشیں گر رہی ہیں۔‘‘ سیاسی مسائل کا حل احتجاج اور سڑکوں پر نکلنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ایک روزہ لانگ مارچ سے 120 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔ ان کے مطابق دھرنوں اور احتجاج سے معیشت پر بوجھ پڑتا ہے اور پاکستانی معیشت روزانہ 120 ارب روپے کے نقصان کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا حکومت کو مشورہ دیا کہ صوبے میں کاروباری سرگرمیوں اور معیشت کی بہتری کے لیے کام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت خود بھی کام کرے اور وفاقی حکومت کو بھی کام کرنے دیا جائے۔
لانگ مارچ کے حوالے سے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ محض دھرنے کے اعلان سے کچھ نہیں ہوگا، اگر لانگ مارچ نکلا تو حکومت اسے روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔