اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ، احتجاج اور سخت مزاحمت کے اعلانات کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمتِ عملی بالآخر مذاکرات کی میز تک پہنچ گئی۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی نے احتجاجی محاذ آرائی سے پیچھے ہٹنے اور تمام معاملات پر حکومت کے ساتھ چلنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ اور حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کے اعلانات کیے گئے تھے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے سخت بیانات کے باعث یہ تاثر پیدا کیا جا رہا تھا کہ سیاسی کشیدگی مزید بڑھے گی اور دارالحکومت میں بڑا سیاسی معرکہ ہوسکتا ہے،تاہم مذاکرات کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی اور احتجاجی سیاست کے بجائے تحریک انصاف نے مکمل سرنڈر کردیا۔
لانگ مارچ کا انجام
عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد آنے کا اعلان کرنے والی پی ٹی آئی نے بالآخر لانگ مارچ سے پیچھے ہٹنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ اس طرح جس احتجاج کو حکومت پر دباؤ بڑھانے اور اپنے مطالبات منوانے کے لیے بڑے سیاسی اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، وہ مذاکرات کے نتیجے میں مؤخر ہوگیااور پی ٹی آئی سب کچھ دے کر منتیں ترلے کرکے چلی گئی۔
کے پی حکومت بھی محفوظ
مذاکرات کا ایک اہم پہلو خیبر پختونخوا حکومت کا مستقبل بھی ہے۔ سیاسی بحران کے دوران پی ٹی آئی حکومت کو مختلف خدشات کا سامنا تھا، تاہم مذاکرات کے بعد صورتحال میں نرمی پیدا ہوئی ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کی منتیں کرتے ہوئے کہا گیا کہ سب کچھ چھوڑیں حکومت بچالیں ہم وزیر اعلیٰ بھی بدل دیں گے ۔
یہ بھی پڑھیں :ملاقات نہ کرائیں فیس سیونگ کے لیےجیل کے اندر جاکر واپس آجائیں گے،پی ٹی آئی کے گھنٹوں کے بل بیٹھ کر ترلے


