وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم ملک بھر میں کامیابی سے جاری ہے اور اب تک 75 لاکھ سے زائد شہری اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
وزارتِ آئی ٹی نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے پر تازہ ترین اعداد و شمار جاری کردیئے۔ وزارت کے مطابق 15 ستمبر سے شروع ہونے والی اسکیم کے تحت اب تک 84 لاکھ سے زائد افراد کی رجسٹریشن ہوچکی ہے، جبکہ اسکیم سے مستفید ہونے والے شہریوں کی تعداد 75 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
وزارتِ آئی ٹی کے مطابق وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے ٹوکن استعمال کرنے کا تناسب 84.4 فیصد ہے۔ اب تک اسکیم کے تحت 1 کروڑ 22 لاکھ سے زائد ٹوکن جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ 1 کروڑ 3 لاکھ سے زائد ٹوکن استعمال بھی ہوچکے ہیں۔
وزارتِ آئی ٹی کے مطابق ملک بھر میں شہریوں اور پیٹرول پمپ مالکان کی فوری معاونت اور رہنمائی کے لیے کال سینٹر 24 گھنٹے فعال ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسکیم کے تحت ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے، جبکہ فیول ریلیف اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی آنے پر فیول ریلیف اسکیم ختم کردی جائے گی۔ حکومت نے تیل کے بحران پر بہتر انداز میں قابو پایا ہے جبکہ ٹیکس ریفارمز حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور محصولات میں اضافہ یقینی بنایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ فیول ریلیف اسکیم میں 3 ماہ سے زیادہ توسیع ممکن نہیں، جبکہ 3 ماہ کی فیول سبسڈی کی اصل لاگت 75 ارب روپے سے تجاوز کرسکتی ہے۔
پاکستان نے آئی ایم ایف کو پیٹرول کی قیمتوں کا تفصیلی کاسٹ بریک ڈاؤن بھی پیش کردیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ درآمدی پیٹرول کی قیمت تقریباً 250 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ صارفین کو یہ تقریباً 390 روپے فی لیٹر میں فروخت ہورہا ہے۔
بریفنگ کے مطابق پیٹرول پر تقریباً 110 روپے فی لیٹر ٹیکس جبکہ 27 روپے مختلف مارجنز کی مد میں شامل ہیں۔
دوسری جانب آئی ایم ایف وفد نے وزارت صنعت و پیداوار کے حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ آٹو پالیسی پر مذاکرات جاری ہیں۔