حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی خبریں سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا حلقوں میں اپنی ہی قیادت کے خلاف شدید ردعمل سامنے آنے لگا ہے،پارٹی کے حامی صارفین کی جانب سے مختلف رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قیادت کے فیصلوں پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
قیادت پر سوالات
سوشل میڈیا پر بعض پی ٹی آئی کارکنوں اور حامیوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کی موجودہ قیادت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مفادات کے بجائے اپنے سیاسی معاملات کو ترجیح دی ہےکچھ صارفین نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے قیادت کو ’’کمپرومائزڈ‘‘ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ مذاکرات کے نتیجے میں عمران خان کو ہی بیچ دیا گیا ہے۔
خان کا سودا کردیا
پی ٹی آئی کے بعض سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ قیادت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں عمران خان کے معاملے پر سمجھوتہ کیا اور معاہدے میں خان کو بھیج دیا ،ان تبصروں میں پارٹی کے مرکزی رہنماؤں سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے کہ مذاکرات میں کیا طے پایا اور عمران خان کے حوالے سے کیا یقین دہانیاں حاصل کی گئی ہیں۔
لانگ مارچ بھی زیر بحث
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا بنیادی پس منظر 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ اور عمران خان سے ملاقات و ان کے حالات سے متعلق مطالبات ہیں،مذاکرات شروع ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے اندر بھی اس بات پر بحث جاری ہے کہ احتجاجی پروگرام کو کس حد تک جاری رکھا جائے اور حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔
کارکنوں کی ناراضی
سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث میں بعض کارکنوں کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے پہلے سخت مؤقف اختیار کیا، احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کیا، لیکن مذاکرات کی میز پر پہنچ کر صورتحال مختلف ہوگئی۔ سوشل میڈیاصارفین اسے عمران خان کے مؤقف سے انحراف قرار دیتے ہوئے رہنماؤں کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
اندرونی اختلافات نمایاں
پی ٹی آئی کے اندر قیادت، احتجاجی حکمت عملی اور مذاکرات کے معاملے پر اختلافات پہلے بھی سوشل میڈیا پر نمایاں رہے ہیں۔ حالیہ پیش رفت کے بعد یہ اختلافات مزید کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور پارٹی کے حامیوں کا ایک حلقہ اپنی ہی قیادت سے جواب مانگ رہا ہےفی الحال سوشل میڈیا پر قیادت کے خلاف سامنے آنے والے کمپرومائزڈاور ’’خان کا سودا کرنے‘‘ جیسے تبصرے قیادت پر لعن طعن کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید تیز ہونے کی امید ہے ۔