بلاول بھٹو نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاد کا عندیہ دے دیا

بلاول بھٹو نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاد کا عندیہ دے دیا

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی آئینی ہتھیار ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم کوشش ہونی چاہیے کہ معاملات کا سیاسی حل نکالا جائے۔

کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کے لیے ایک اور منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے جس سے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔ کراچی میں تیزی سے کام ہورہا ہے اور شہر کی تاریخ میں اس رفتار سے ترقیاتی کام پہلے نہیں ہوئے۔

انہوں نے کراچی اور سندھ میں پانی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں پانی کی کمی ہے، تاہم کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی یقینی بنارہے ہیں۔ واٹر کارڈ میں بھی کراچی کو اضافی پانی فراہم کرنے کا ذکر ہے۔ سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہیں ملتا اور کراچی سمیت سندھ بھر کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق میں بیٹھے دوست کراچی پر تنقید کرتے ہیں تو شوق سے کریں، لیکن وفاق نے کراچی کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ پیپلز پارٹی کراچی کی خدمت جاری رکھے گی کیونکہ کراچی ہمارا شہر ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سکھر، حیدرآباد موٹروے اور کے فور منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے ان معاملات پر مایوس کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’شہباز اسپیڈ‘ کا نام سنا ہے، جہاں ضرورت ہے وہاں اس اسپیڈ کا مظاہرہ کیا جائے۔ وہ آج تک کے فور کے لیے ’شہباز اسپیڈ‘ کا انتظار کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے اثرات کراچی تک پہنچتے ہیں، اس لیے دہشت گردی کے معاملے پر وفاق اور صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کو سیاست کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے اور سیاسی و دہشت گردی کے معاملات کو الگ الگ طریقے سے حل کیا جائے۔

خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے وفاق کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کا مشورہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے اور امید ہے اسلام آباد میں جاری سیاسی مذاکرات کامیاب ہوں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی آئینی ہتھیار ہیں، ضرورت پڑنے پر ’آئینی اٹامک بم‘ استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم کوشش ہونی چاہیے کہ معاملات کا سیاسی حل نکالا جائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق سے رابطہ کرے اور مارچ ختم کرے۔

موجودہ سیاسی صورتحال میں وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکانات پر گفتگو جاری رہی ہے، تاہم دونوں آئینی اقدامات الگ الگ آئینی شرائط کے تحت آتے ہیں

Related Articles