ملک میں گندم کی بھرپور پیداوار کے باوجود آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ جاری ہے، بعض علاقوں میں 50 کلو آٹے کا تھیلا 8 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔
گندم 132 روپے کلو
کراچی کی ہول سیل مارکیٹ میں گزشتہ چار ماہ کے دوران گندم کی قیمت 90 سے بڑھ کر 132 روپے فی کلو ہوگئی، جبکہ 2.5 آٹا 155، فائن آٹا 157 اور چکی آٹا 180 روپے فی کلو تک پہنچ گیا۔
ذخیرہ اندوزی کا الزام
ہول سیل گروسری ایسوسی ایشن کے چیئرمین رئوف ابراہیم نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ گندم کی ڈی ریگولیشن، امدادی قیمت کے خاتمے اور ذخیرہ اندوزی کو قرار دیا ہے۔
درآمدی گندم ناکافی
ان کے مطابق ٹی سی پی کے ذریعے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کا منصوبہ ملکی ضرورت کے لیے ناکافی ہے، جبکہ درآمدی گندم نومبر سے پہلے پہنچنے کا امکان نہیں۔
کسان اور صارف متاثر
کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین کے مطابق گندم پالیسی سے کسان اور صارف دونوں متاثر ہورہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان گندم پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے درآمدی پالیسی قابلِ تشویش ہے۔
عالمی منڈی میں گندم سستی
ایل ڈی سی پاکستان کے کنٹری ہیڈ محمد دانیال کے مطابق عالمی منڈی میں اسی معیار کی گندم تقریباً 290 ڈالر فی ٹن جبکہ پاکستانی گندم تقریباً 270 ڈالر فی ٹن میں فروخت ہورہی ہے۔
ناقص ذخیرہ کاری بڑا مسئلہ
ماہرین کے مطابق ناقص گوداموں اور کھلے ذخیرہ مراکز کے باعث گندم میں نمی اور کیڑوں کا خطرہ بڑھتا ہے، جس سے پاکستانی گندم کی برآمدی قدر متاثر ہوتی ہے۔
سالانہ کھپت پیداوار سے زیادہ
پاکستان میں گندم کی سالانہ پیداوار تقریباً 3 کروڑ ٹن جبکہ کھپت 3 کروڑ 10 لاکھ ٹن کے قریب ہے ۔