سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے موجودہ امریکی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس وقت ایک سنجیدہ ملک نہیں بلکہ خطرناک ملک بن چکا ہے اور اپنی پالیسیوں کے ذریعے بہترین دوست ممالک کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے۔
دنیا امریکا سے دور
ہیلری کلنٹن نے کہا کہ موجودہ امریکی پالیسیوں کے باعث دنیا امریکا کے خلاف ہوتی جا رہی ہے،واشنگٹن کی جانب سے اختیار کی جانے والی پالیسیوں نے امریکا کے عالمی تعلقات اور بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کیا ہے،انہوں نے امریکی حکومت کے طرز عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوست ممالک کے ساتھ بھی دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنا امریکا کے مفاد میں نہیں۔
ٹرمپ پر تنقید
سابق امریکی وزیر خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کو جھوٹ بولنے کا چیمپئن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر چیز کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیانات اور پالیسیوں نے عالمی سطح پر امریکا کے بارے میں مزید سوالات پیدا کیے ہیں۔
نیتن یاہو کی حکومت
ہیلری کلنٹن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت اور اس کی پالیسیوں کے حوالے سے بھی سخت موقف اختیار کیا، انہوں نے کہا کہ انہیں نیتن یاہو کی حکومت اور اس کی پالیسیوں سے نفرت ہے۔
مغربی کنارے کا معاملہ
سابق امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے کی صورتحال اور وہاں آبادکاری سے متعلق پالیسیوں پر بھی سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
امریکی پالیسیوں پر سوالات
ہیلری کلنٹن کے بیان نے موجودہ امریکی خارجہ پالیسی اور صدر ٹرمپ کے طرز حکمرانی پر ایک مرتبہ پھر بحث چھیڑ دی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی موجودہ سمت نہ صرف عالمی سطح پر اس کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر رہی ہے ۔
دنیا میں امریکا کے بارے میں پائے جانے والے تاثر کو بھی تبدیل کر رہی ہے،سابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کو اپنی عالمی پالیسیوں اور اتحادی ممالک کے ساتھ رویے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔