پری امیگریشن کلیئرنس کے بغیر بیرون ملک روانگی نہیں ہوگی ،نئے نظام کا نفاذ

پری امیگریشن کلیئرنس کے بغیر بیرون ملک روانگی نہیں ہوگی ،نئے نظام کا نفاذ

بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانی مسافروں کو اب روانگی سے قبل سفری دستاویزات کی جانچ اور پری امیگریشن کلیئرنس کے مرحلے سے گزرنا ہوگا، جس کا مقصد ایئرپورٹس پر آخری وقت میں آف لوڈنگ ٹکٹ اور ویزا فیس کے مالی نقصان اور قانونی پیچیدگیوں سے مسافروں کو بچانا ہے۔

حکام کے مطابق ملک بھر کے بین الاقوامی ایئرپورٹس پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن، پاسپورٹ حکام اور پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کا عملہ متحرک کردیا گیا ہے۔ نئے انتظام کے تحت مسافروں کے ویزوں، پاسپورٹ اور دیگر ضروری سفری دستاویزات کی باقاعدہ امیگریشن کاؤنٹر تک پہنچنے سے پہلے جانچ کی جائے گی۔

یہ اقدام اوورسیز ایمپلائمنٹ سے متعلق نمائندہ تنظیم کی درخواست کے بعد شروع کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس نظام کے ذریعے مسافر کی دستاویزات اور ویزے میں موجود ممکنہ نقائص پہلے ہی سامنے آسکیں گے، تاکہ ایئرپورٹ پر آخری مرحلے میں مسافر کو روکنے یا آف لوڈ کرنے کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

نئے طریقہ کار کے مطابق ملازمت، سیروتفریح، عمرہ یا مذہبی زیارت کے لیے بیرون ملک جانے والے مسافروں کو پہلے پری امیگریشن کلیئرنس کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے سفری دستاویزات کی جانچ اور مطلوبہ کلیئرنس کے بعد ہی انہیں باقاعدہ امیگریشن مرحلے کی طرف جانے کی اجازت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:کے پی میں حالات بگڑ گئے، سہیل آفریدی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

حکام کا کہنا ہے کہ خاص طور پر پاسپورٹ، ویزے اور منزل والے ملک میں داخلے کے لیے درکار دیگر کاغذات کی تکمیل اور حیثیت کی جانچ کی جائے گی۔ مسافر سے کسی معاملے میں وضاحت درکار ہو یا دستاویزات نامکمل ہوں تو مسئلہ روانگی کے ابتدائی مرحلے پر ہی سامنے آسکے گا۔

سرکاری حکام کے مطابق ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد آف لوڈ ہونے والے مسافروں کو بعض اوقات ٹکٹ، ویزا فیس، ہوٹل بکنگ اور دیگر سفری اخراجات کے حوالے سے مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ آخری وقت میں سفر رکنے سے قانونی اور ذہنی دباؤ بھی پیدا ہوتا ہے۔

نئے نظام کا ایک مقصد یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر نامکمل یا غیر مؤثر سفری کاغذات کی نشاندہی پہلے ہی ہوجائے، تاکہ مسافر کو سفر شروع کرنے سے قبل اپنی دستاویزات درست کرانے کا موقع مل سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غیر قانونی سفر اور غیر مناسب سفری انتظامات کی روک تھام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

حکام کے مطابق بعض پاکستانی مسافروں کے بیرون ملک پہنچنے کے بعد لاپتا ہونے، غیر قانونی طور پر دوسرے ممالک کا سفر کرنے یا متعلقہ ممالک سے بے دخلی جیسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں روانگی سے پہلے دستاویزات، ویزے اور سفر کے مقصد کی جانچ کو زیادہ منظم بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔

خصوصاً بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد کے معاملے میں یہ جانچ اس لیے بھی اہم قرار دی جارہی ہے کہ وہ جعلی یا نامکمل کاغذات، غیر مناسب سفری انتظامات اور دھوکا دہی سے محفوظ رہ سکیں۔

ایئرپورٹس پر آف لوڈنگ کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی قانونی سوالات اٹھ چکے ہیں۔ 18 ستمبر 2026 کو عدالت نے ایک شہری کو بیرون ملک سفر کی اجازت دیتے ہوئے ایف آئی اے سے یہ وضاحت طلب کی تھی کہ مسافروں کو آف لوڈ کرنے اور سفری پابندی کی فہرست میں نام شامل کرنے کے لیے قانونی بنیاد کیا ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کے متعلقہ افسر سے اس اقدام کی قانونی حیثیت واضح کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یوں پری امیگریشن کلیئرنس کا نیا طریقہ کار ایک طرف مسافروں کے سفری کاغذات کی پیشگی جانچ کا نظام فراہم کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب اس کا مقصد ایئرپورٹ پر آخری وقت میں آف لوڈنگ کے واقعات، مالی نقصانات اور قانونی پیچیدگیوں کو کم کرنا بھی بتایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پری امیگریشن کلیئرنس کی اصطلاح پاکستان میں پہلے بھی بعض مخصوص سفری انتظامات کے تناظر میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ جنوری 2026 میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے پاکستانی مسافروں کے لیے ایک الگ پری امیگریشن کلیئرنس انتظام پر بھی کام کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد متعلقہ امیگریشن کارروائی پاکستان میں ہی مکمل کرنا تھا

Qaisar Mirza
editor

Related Articles