خیبرپختونخوا میں وزیر اعلی سہیل آفریدی کی غفلت کے باعث بگڑتی سکیورٹی صورتحال دہشت گردی کے بڑھتے خطرے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان بڑھتی سیاسی کشیدگی کے باعث وفاق کی طرف سے مختلف آئینی اور سیاسی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے اور آنے والے دن صوبائی حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں
باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی حلقوں میں خاص طور پر اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کو مطلوب سیاسی اور انتظامی تعاون کس حد تک فراہم کیا جارہا ہے۔ وفاقی حکام کے مطابق صوبے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال محض امن و امان کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان بڑھتی محاذ آرائی نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری حلقوں میں سکیورٹی اداروں کے ساتھ سیاسی کشیدگی اور ایسے بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے جنہیں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور سکیورٹی فورسز کے کردار کے حوالے سے مشکلات پیدا کرنے کا سبب سمجھا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے بھی حالیہ پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات نہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مطلوب اقدامات نہیں کیے جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی صوبائی پولیس کو وسائل اور اختیارات فراہم کرنے کے معاملے پر سوالات اٹھائے یہ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے، جبکہ پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں وفاقی سطح پر خیبرپختونخوا حکومت کے مستقبل کے حوالے سے مختلف آئینی راستوں پر غور کیا جارہا ہے تاہم ابھی تک کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق زیر بحث آپشنز میں آئین کا آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 بھی شامل ہیں۔ آرٹیکل 232 جنگ بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی صورتحال میں ہنگامی حالت سے متعلق ہے جس سے ملک یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو اور صوبائی حکومت اس صورتحال پر قابو پانے کی پوزیشن میں نہ ہو۔
آرٹیکل 234 اس صورتحال سے متعلق ہے جب صدر کو یہ اطمینان ہو کہ کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی۔ تاہم ان آئینی شقوں کے استعمال کے لیے آئینی طریقہ کار اور متعلقہ منظوریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال میں 4 اکتوبر بھی اہم تاریخ بن گئی ہے پی ٹی آئی نے اپنے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے تبدیل کرکے 4 اکتوبر کردی ہے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ مارچ پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں موجودہ سیاسی بحران ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کررہا ہے جب صوبہ پہلے ہی دہشت گردی کے سنگین خطرے سے دوچار ہے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومت پر سکیورٹی پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے سوالات اٹھا رہی ہے جبکہ صوبائی حکومت وفاقی پالیسی خصوصاً افغانستان اور دہشت گردی سے متعلق حکمت عملی کو مسئلے کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔
یوں خیبرپختونخوا میں ایک طرف دہشت گردی اور امن و امان کا بحران موجود ہے تو دوسری جانب مرکز اور صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات بھی شدت اختیار کرچکے ہیں۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق وفاقی سطح پر آئینی و سیاسی آپشنز زیر غور ضرور ہیں تاہم گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا قوی امکان ہے کہ اس حوالے سے جلد فیصلہ کر لیا جائیگا
آئندہ چند روز خصوصاً 4 اکتوبر کے اعلان کردہ پی ٹی آئی پروگرام سے پہلے وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان مذاکرات سکیورٹی صورتحال اور سیاسی کشیدگی میں ہونے والی پیش رفت کو اہم سمجھا جارہا ہے۔ وفاقی حکومت کس آئینی راستے کی طرف بڑھتی ہے یا سیاسی مذاکرات کے ذریعے صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔